کوہ پیمائوں کی الم ناک ہلاکت

دنیا کی نویں بلند ترین اور پاکستان کی دوسری سربفلک اور سرکش چوٹی نانگا پربت سوگوار ہے۔


Editorial June 25, 2013
دنیا کی نویں بلند ترین اور پاکستان کی دوسری سربفلک اور سرکش چوٹی نانگا پربت سوگوار ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

دنیا کی نویں بلند ترین اور پاکستان کی دوسری سربفلک اور سرکش چوٹی نانگا پربت سوگوار ہے۔ دہشت گردوں نے بلاشبہ صرف غیر ملکی کوہ پیماؤں کے بیس کیمپ پر بہیمانہ حملہ نہیں کیا ، یہ حملہ پاکستان پر کیا گیا اور اسے دنیا میں بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔تاہم دہشتگردی کی دیگر وارداتوں کی طرح اس داخلی ننگی جارحیت میں ملوث عناصر اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوج نے جس تیزی اور فیصلہ کن انداز میں آپریشن شروع کیا ہے اس سلسلہ میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی ملزم بچ کر نہیں جاسکتا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق نانگا بربت بیس کیمپ میں غیرملکی کوہ پیماؤں کے قتل میںملوث افراد کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسزکا دیامر اور نواحی علاقوں میں سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے، 40 سے زائد مشتبہ افراد کوگرفتارکر لیا گیا، سرچ آپریشن میں پاک فوج،گلگت اسکاؤٹس، رینجرز اورفرینٹرکانسٹیبلری کے اہلکار شریک ہیں ، گرفتار ہونیوالوں میں چارپوٹرز اوردوگائیڈ شامل ہیں ۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو چوبیس گھنٹوںمیں رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا ہے جب کہ نانگاپربت سے 24 غیر ملکیوں سمیت48 سیاحوں کواسلام آباد منتقل کردیا گیا ۔
چوٹی پر سے کوہ پیمائی کی ٹیموں کو واپس اتار لیا گیا ہے ۔ آپریشن میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا ، علاوہ ازیں پاک فوج نے سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اورغیر ملکی کوہ پیماؤں کے واقعے میں ملوث ملزموں کی گرفتاری کے لیے نانگا پربت کے بیس پرخصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کردیا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ آپریشن کثیر جہتی ہے تاکہ اس دشوار گزار علاقے کے جس حصہ میں دہشت گرد چھپ گئے ہوں انھیں نکلنے کا کوئی موقع نہیں ملنا چاہیے اور دہشت انگیز تعاقب کی حکمت عملی کے تحت انھیں گرفتار کرکے جلد سے جلد میڈیا کے سامنے لایا جائے ۔

کوہ پیما مہم جوئی اور فطرت کی رضاکارانہ تسخیر کی دنیا میں اپنا ایک فاتحانہ ، پر وقار ، غیر سیاسی اور صرف سیاحتی کردار لے کر آتے ہیں ، ان کی وجہ سے چیلاس گلگت بلتستان اور دیگرکوہساروں سے ملحقہ علاقوں میں ہوٹلزاور مارکیٹس میں چہل پہل نظر آتی ہے ،ٹرانسپورٹرز، پورٹرز، گائیڈ، اورباورچیوں کو روزگار ملتا ہے جب کہ حکومت کو سیاحت کی مد میں زبردست آمدنی ہوتی ہے۔مگر سب سے بنیادی فرق کوہ پیمائی کے تحیر اور فطرت سے اعصاب شکن کشمکش اور پاکستان کے قدرتی مناظر کی سحر انگیزی کی وہ داستانیں ہیں جو یہ سیاح اور کوہ پیما اپنے ساتھ لے کر اپنے وطن جاتے ہیں۔

طالبان کے جندل حفصہ یونٹ کی طرف سے ان کوہ پیماؤں کو قتل کرنے کی مذموم کارروائی سے ملکی وقار ، سلامتی اور کوہ پیمائی کے شعبے کو جو دھچکا لگا ہے اس کا ازالہ آسانی سے نہیں ہوسکتا۔ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو پاکستان کی دھرتی سے خصوصی پیار ہے، دہشت گردی کی اس واردات نے انھیں یقیناً غم زدہ کردیا ہوگا۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردوں کو قانون کے آہنی شکنجے میں کس کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ ارباب اختیار کو بھی اب ادراک کر لینا چاہیے کہ دہشت گرد جب 8 ہزار فٹ بلندی پر بھی دہشت گردی کی مجنونانہ کارروائیوں کے منصوبے بناسکتے ہیں تو ریاست کی لرزہ خیز اور خوفناک قوت سے دہشت گردوں کے دل کیوں نہیں دہلتے؟ نانگا پربت پر دہشت گردی چشم کشا ہے۔

اس وارادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان عناصر نے کتنی عیاری اور چابکدستی سے گائیڈ اور اسکاؤٹس کو قابو کرکے بیس کیمپ تک رسائی حاصل کرلی۔ اس واقعے کے مضمرات اور دور رس اثرات عالمی کوہ پیمائی حلقوں میں ناقابل بیان ہوسکتے ہیں، چنانچہ اس واردات کے داخلی و خارجی تمام ممکنہ ماسٹر مائنڈز کا کھوج لگایا جائے اور اس سانحہ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔ بعض عینی شاہدین نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ سیاحوں پر18افراد نے حملہ کیا،جب کہ مارے جانے والے دس غیرملکی کوہ پیماؤںکی شناخت ہوگئی۔ سرکاری حکام نے بتایاکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی ہے جس کے پاس چین کی دہری قومیت بھی ہے۔ اس کے علاوہ تین یوکرائن، دوسلوواکیہ، دوچین ،ایک لتھوینیا اورایک کا تعلق نیپال سے ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے غیرملکی سیاحوں کے قاتلوںکو جلد ازجلد گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا تشخص مجروح کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ یہ ہدایات پیر کووفاقی کابینہ کے اجلاس میں جاری کی گئیں۔ سانحہ کا رد عمل بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی وزیر اُمور کشمیرو گلگت بلتستان چوہدری برجیس طاہر نے واقعے پرگہرے غم و رنج کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقع کی انکوائری کاحکم دے دیا ہے۔اسکردو میں غیر ملکی سیاحوں کے قتل کے خلاف سیکڑوں ٹور آپریٹرز نے احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا۔

پیر کومظاہرین نے حسینی چوک سے پریس کلب تک مارچ کیا۔ بلتستان ایسوسی ایشن آف ایڈونچر ٹور آپریٹرز کے عہداداروں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کا قتل تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے جس سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم سازش کی گئی ہے۔وفاقی کابینہ نے نانگا پربت بیس کیمپ پر 9 غیر ملکی اور 2 پاکستانی سیاحوں کے المناک قتل کی شدید مذمت کی ہے اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ واقعے میں جاں بحق ہونے والے 2 پاکستانیوں کے ورثاء کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کریں۔وفاقی کابینہ نے نانگا پربت بیس کیمپ پر 9 غیر ملکی اور 2 پاکستانی سیاحوں کے المناک قتل کی شدید مذمت کی ہے اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ یوکرائن نے پاکستان میں اپنے تین سیاحوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے پاکستان متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرے۔

یوکرائن کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ انھوں نے یوکرائن میں پاکستان کے قائم مقام نمایندہ کو مراسلہ بھجوایا ہے جس میں معاوضے کے علاوہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس سانحے میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے پہلو پر بھی نظر رکھی جائے ' حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اس واقعہ کی ٹھوس تحقیقات کر کے قوم کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے۔لیکن اولین پیش قدمی دہشت گردون کی گرفتاری اور انھیں قرار واقعی سزا دینے کی ہے۔

بی بی سی کے ایک پروگرام میں مارکس جارج نے نانگا پربت کے پہلے فاتح آسٹرین باشندہ ہرمن بول کی یاد دلائی اور کہا کہ 50برس قبل اس عظیم کوہ پیما نے نانگا پربت کواکیلا سر کیا تھا۔تاہم موسم کی سختیوں اور یخ بستہ ہواؤں نے اس کے ساتھی کوہ پیماؤں کو پسپا کردیا وہ واپس پلٹ گئے، لیکن ہرمن نے نانگا پربت کی چوٹی سر کرلی۔ دہشت گردی کی اس واردات پر اس فراموش کردہ کو پیما کی روح کو آج کتنی تکلیف پہنچی ہوگی۔ دہشت گردی کی اس کارروائی کا ازالہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ فورسز نانگا پربت کے پورے دشوار گزار علاقے کو سیل کرکے ملزمان کو پکڑ کر لائیں تاکہ عالمی سطح پر پاکستان اس امر کا دعوی کرسکے کہ اس کی کوہ پیمائی کی انفرادیت کسی دہشت گرد کے سامنے سرنگوں نہیں ہوسکتی۔