دورہ بھارت میں جان کیری کے مشورے

پاکستان اور بھارت خطے کے دواہم ممالک ہیں جن کے درمیان پائے جانے والے تناؤ اورکشیدگی کے باعث نہ۔۔۔


Editorial June 25, 2013
فوٹو: فائل

پاکستان اور بھارت خطے کے دواہم ممالک ہیں جن کے درمیان پائے جانے والے تناؤ اورکشیدگی کے باعث نہ صرف دونوں ممالک کے عوام بلکہ اقوام عالم کو بھی تشویش لاحق ہے۔اسی حوالے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے دورہ بھارت کے دوران نئی دہلی میں اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائے، یہ اقدام بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دورکا آغاز ہوسکتا ہے ۔

جان کیری کی رائے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ امریکا واحد سپر پاور ہے اور عالمی سیاست میں اس کا اہم ترین کردار ہے ۔ایک دن کے فرق سے آزاد ہونیوالے دو پڑوسی ممالک اب تک تین جنگیں لڑچکے ہیں ، جنگ تباہی وبربادی کا دوسرا نام ہے جس کا نتیجہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لاکھوں عوام بھگت رہے ہیں ۔گوکہ گزشتہ جمہوری حکومت نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور قیام امن کے لیے مثبت اقدامات کیے تھے لیکن ان کاوشوں پر غیرریاستی عناصر کی کارروائیوں نے پانی پھیر دیا جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کچھاؤ اور تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔بھارت اس خطے میں ایک سپرپاور ہے اسے بھی چاہیے کہ وہ نئے عالمی اور سیاسی تناظر میں حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو کشادہ اور بانہوں کے پھیلا کر پاکستان کو گلے لگائے ۔

تاکہ دوستی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوسکے۔ انتہاپسند گروہ اور عناصر تو دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دو پڑوسی جنگیں لڑتے رہیں ۔یورپین بھی جنگ کو بھول کر امن کی راہ پر چل نکلے ہیں جس کے باعث خوشحالی وہاں کے عوام کا مقدر ٹھہری ہے ۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مزید کہا کہ امریکا اور بھارت امن اور مستحکم دنیا کی حمایت کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔اسی یکساں موقف کو درست کو ثابت کرنے کے لیے بھارت کو بھی پہل کرنا ہوگی ۔ کیونکہ پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم نوازشریف بھارت سے دوستی اور بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں ۔

ماضی میں ان کے دوسرے دور حکومت کے دوران واجپائی کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے عوام کو قریب لے آیا تھا اور مسئلہ کشمیر حل ہونے کی امید بھی پیدا ہوچلی تھی کہ پاکستان میں فوجی آمر نے حکومت پر قبضہ کرلیا ۔ مذاکرات کا عمل سبوتاژ اور دوستی کا سفر رک گیا بہرحال پاکستان میں نئی حکومت کے کامیاب کے بعد قوی امید ہے کہ پاک بھارت دوستی کے نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ پاکستان اور بھارت کے حکمران تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں اورخارجہ پالیسی کے امور ازسر نو مرتب کریں تو خطے میں پائیدار امن کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں ۔

دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت، صنعت وحرفت اور فن وثقافت کے فروغ سے دونوں ممالک کے عوام کو قریب آنے کا بھرپور موقع ملے گا جب دل ملیں گے تو نفرتوں کے الاؤ خود بخود ٹھنڈے ہوجائیں گے ۔ پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ عوام کی خوشحالی کے لیے باہمی تعلقات کا فروغ ہمیں ترقی اور خوشحالی کی راہوں پرگامزن کرسکتا ہے ورنہ تباہی وبربادی کا سامان تو دونوںکے پاس ایٹم بم کی صورت میں موجود ہے ۔اب جب کہ اقوام عالم کی بھی خواہش ہے کہ خطے میں امن ہو تو پاک بھارت تعلقات میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں رہ جاتی بلکہ بات صرف خلوص نیت سے عملی اقدامات کرنے کی ہے ۔