صدر ٹرمپ کا شکوہ

دہشتگردی اور طالبانیت کی بربریت کی اہل پاکستان نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ان ڈالروں کی قیمت کیا ہے۔


Editorial November 20, 2018
دہشتگردی اور طالبانیت کی بربریت کی اہل پاکستان نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ان ڈالروں کی قیمت کیا ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے عجیب شکوہ کیا ہے ۔ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل ''فوکس نیوز '' کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ کہا کہ پاکستان نے امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا، ہمارا ''معمولی سا کام بھی نہیں کیا۔''

ادھر وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے امریکا افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر غور کرے کیونکہ ایک لاکھ40ہزار' نیٹو' ڈھائی لاکھ افغان فوج کے باوجود امریکا جنگ نہ جیتا' ایک ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود طالبان آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر تاریخ درست کرنے کی ضرورت ہے' نائن الیون میں کسی پاکستانی کے شامل نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں75ہزار جانیں اور123ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا' ہمارے قبائلی علاقے تباہ اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور اس کے بدلے امریکا نے صرف20ارب ڈالرز امداد دی۔ اس جنگ نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں میں تباہ کن اثرات مرتب کیے پاکستان نے پھر بھی امریکا کو مفت زمینی اورفضائی سہولت مہیا کی' کیا مسٹر ٹرمپ ایسے اتحادی کا نام بتا سکتے ہیں جس نے یہ قربانیاں دی ہوں۔

اس معمولی سے کام کی تکمیل میں گریز پائی کے اسباب وعلل اور مکمل زمینی حقائق پر مبنی سیاسی، معاشی عسکری و تزویراتی جواب تو وزیراعظم عمران خان نے دے دیا ہے تاہم پاکستان کے پالیسی سازوں کو انتہائی سنجیدگی سے ٹرمپ کے لگائے گئے اس الزام پر قومی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کرنا ہوگی اور پاک امریکا تعلقات میں بگاڑ اور سفارتکاری و خیر سگالی کی روایات کے تحت الثریٰ تک پہنچنے کے بنیادی اسباب میں افغان مخدوش صورتحال کا کتنا عمل دخل تھا اور طالبان کے عروج اور اسامہ بن لادن کے افغانستان میں موجودگی کے اندوہ ناک مضمرات کو بھی زیر مطالعہ لانا ہوگا ۔

صدر ٹرمپ کو شاید ان کے مشیر یہ یاد نہ دلانا چاہتے ہوں کہ نائن الیون کے بعد کی دنیا پر امریکی پالیسیوں کے جو عذاب در عذاب نازل ہوئے کیا یہ یہی وہ معمولی کام تھے جن کی عدم تکمیل میں گستاخی صرف پاکستان سے ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی ایسے اتحادی کا نام بھی بتائیں جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جتنی قربانیاں دیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی، پاکستان میں ہر کوئی اس کی موجودگی سے آگاہ تھا اور ہم اسے سالانہ 1.3 ارب ڈالر دیتے رہے، اب ہم انھیں یہ رقم نہیں دینگے کیونکہ میں نے یہ امداد بند کردی ہے۔ ٹرمپ کا بیان امریکی رعونت کا اعادہ کرتا ہے، اس سے 70 برسوں پر محیط پاک امریکا تعلقات کے نشیب و فراز کی کہانی کے کئی باب سامنے لائے جا سکتے ہیں جو امریکی بے وفائی، یوٹرن ، اسامہ داستان اور القاعدہ و طالبان کے عروج سے ڈرون حملوں کے ڈراپ سین تک جاتے ہیں۔

معاملہ معمولی کام کو امریکی خواہشات یا ڈکٹیشن پر مکمل نہ کرنے کا نہیں بلکہ جو حقیقت صدر ٹرمپ کو نہیں بتائی جاتی وہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف غیر معمولی قربانیوں کی ہے، اس دہشتگردی کا موجد یا کوریوگرافر ہر گز پاکستان نہ تھا، افغان جنگ غیروں نے بھڑکائی ، جس میں پاکستان کے ہزاروں گھر جلے، فاٹا پر مسلسل ڈرون حملوں کی درد انگیز کارروائی میں جوان ، بوڑھے ،خواتین ، بزرگ اور پاک فوج کے جوان شہید ہوئے، معیشت کو کھربوں روپے کا خسارہ ہوا ۔ مگر یہ خون ناحق امریکی حکام کو کبھی یاد نہیں رہا ، امریکا کو صرف اپنے3.1 ڈالر سالانہ امداد کا غم ہے مگر یہ ادراک اور رنج نہیں کہ اہل پاکستان دہشتگردی کے باعث داخلی طور پر کس غم روزگار میں الجھے؟

دہشتگردی اور طالبانیت کی بربریت کی اہل پاکستان نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ان ڈالروں کی قیمت کیا ہے۔ کیا کبھی کوئی غیور قوم اپنے عوام، مسلح افواج ، مشترکہ مفادات اور آزادی وخود مختاری کا سودا کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے۔

یہ جنگ پاکستان نے مسلط کردہ سامراجی اور استعماری جنگ ہوتے ہوئے بھی محض اپنی سالمیت ، قومی یکجہتی ، ملی آدرش اور خطے کے کروڑوں عوام کے مجموعی تحفظ کی خاطر لڑی ، پاکستان نے قیام امن اور افغان امن عمل کے لیے بھی اسی جذبہ کے ساتھ اپنا کلیدی کردار ادا کیا ،مگر ٹرمپ سب کیے کرائے پر پانی پھیردیتے ہیں، تاہم امریکا پر لازم پے کہ وقتاً فوقتاً اس قسم کی الزام تراشی سے گریز کرے ، تاریخی شعور کا تقاضہ ہے کہ خطے کے ممالک پاکستان پر بے الزامات سے گریز کریں، برصغیر کی سیاسی کشمکش میں پاکستان نے ہمیشہ امن واستحکام اور پڑوسیوں ملکوں کے لیے بقائے باہمی کے کاز کی حمایت کی ہے۔

قطر میں وہی امریکا انہی طالبان سے مذاکرات کررہاہے جو افغانستان میں اپنے مطالبات و مفادات اور امریکی قبضہ کے خلاف جنگ آزما ہیں، پاکستان نے خطے میں انسانیت اور جمہوریت کو بچایا اور الزام بھی اسی پر آیا۔ ٹرمپ شکایت کناں ہیں کہ پاکستان نہ ہمارے لیے کچھ نہ کیا، کیا بے مروتی عہد حاضر کی سب سے بڑی قدر ہے؟

لازم ہے کہ امریکا انسانی تباہ کاریوں کا احساس کرے ، عالمی بالادستی کے خبط میں پاکستان کو بلاوجہ نہ رگیدے جب کہ اس زمینی حقیقت کا خیال رکھے کہ پاکستانی معیشت کو نائن الیون کی تباہ کن صورتحال نے خطے کا واحد ''مظلوم'' بنادیا جب کہ ستم بالائے ستم افغانستان میں امریکا کی عالمگیر فوجی طاقت بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوئی ہے، یہ طویل ترین فوجی کارروائی جس طرح کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوئی ہے۔

اس کا برملا اور صاف گوئی پر مبنی اعتراف جنرل ڈنفرڈ کی طرف سے اگلے روز آیا، امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان ہارے نہیں بلکہ17سالہ جنگ کے بعد بھی اْن کی پوزیشن کافی مضبوط ہے۔

جنرل ڈنفورڈ نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر ہمیں لگی لپٹی بات کرنے کے بجائے طالبان کی مضبوط پوزیشن کو تسلیم کرلینا چاہیے اور فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ اور مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی کوششیں کرنی چاہئیں۔ جنگ ہر مسئلے کا حل نہیں۔ ان خیالات کا اظہار جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کینیڈا میں سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امریکا کو جنرل ڈنفورڈ کی معروضات پر غور کرنا چاہیے اور پاکسان کی قربانیوں کا اسی نیت نیتی کے ساتھ اعتراف کرکے پاک امریکا تعلقات کے سدھار میں حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے۔

مقبول خبریں