افغانستان امن کی تلاش میں

پاکستان دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، وزیر اعظم نوازشریف


Editorial June 26, 2013
ہ پاکستان دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، وزیراعظم نواز شریف فوٹو: رائٹرز

FAISALABAD: وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے،افغانستان میں پائیدار امن، مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے میں تعاون کرنے کو تیار ہے، تاہم پاکستان کو نظر انداز کرکے خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔امریکی ڈرون حملے ناقابل قبول ہیں، وہ یہاں افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکا کے خصوصی نمایندے جیمز ڈوبنز سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے منگل کو ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد کی صورتحال، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات، امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے پاکستان کے آیندہ دورے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، خارجہ امور اور قومی سلامتی پر وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے بھی شرکت کی۔

افغانستان میں شورش اور جنگ کی تباہ کاریوں کے سدباب ، علاقے میں امن،طالبان سے نتیجہ خیز بات چیت اور اس سارے مصالحتی عمل میں پاکستان کی غیر مشروط شمولیت وہ بنیادی حقائق ہیںجنہیں ملحوظ رکھے بغیر کوئی بریک تھرو یا مفاہمتی کوشش خطے میں پائیدار امن کے قیام کو ممکن نہیں بنا سکتی ۔وزیراعظم نے جیمز ڈوبنز کے گوش گزار کردیا کہ مستحکم افغانستان خود پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔ لیکن اصل مسئلہ اخلاص نیت کا ہے۔

تاکہ زمینی حقائق کی روشنی میں امریکا اپنے تمام یورپی حلیفوں اور عرب دنیا کے اکابرین کی مشاورت سے پاکستان کی افغانستان میں امن و استحکام اوربدامنی و دہشت گردی کے خاتمہ کی کوششوں کو آیندہ مکالمہ کا حصہ بنائے اور دنیا کو یہ کہنے کا موقع نہ دیا جائے کہ افغانستان میں طالبان سے بات چیت در حقیقت ایک ''رومانٹک امریکی کامیڈی '' ہے۔ نواز شریف نے پاکستانی موقف اجاگر کیا اور بتایا کہ امریکا کی طالبان سمیت تمام افغان گروپوں سے بات چیت کے اصولی فیصلے کو پاکستان انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جب کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں افغان قوم کو مرکزی حیثیت اور اہمیت دی جائے۔

تاہم انھوں نے بجا طور پر مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے امریکی نمایندے کو باور کرایا کہ امریکا کو بھارت کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات سے ہرگز مشروط نہیں کرنا چاہیے۔افغانستان کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے ، بھارت کو افغانستان میں اتنی اہمیت دینے کا کیا مطلب؟ ابھی تک کابل میں صورتحال گنجلک اورمبہم ہے ۔ جیمز ڈوبنزکئی باتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو امریکا قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ امریکی و نیٹو فورسز کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان امن، ترقی وخوشحالی کے نئے سفر پر گامزن ہو اور ایسا پاکستان کی اخلاقی، تکنیکی اور عملی مدد کے بغیرممکن نہیں ، مگر عملاً کئی عالمی مرحلے ایسے آئے جب پاکستان کو بائی پاس کیا گیا۔

جیمز ڈوبنز کے مطابق کوئی طالبان کو کنٹرول نہیں کر رہا لیکن ان کا خیال ہے کہ غالباً پاکستان کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ انھوں نے ان خدشات کو رد کر دیاکہ امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا جائے گا اور تاریخ اب اپنے آپ کو نہیں دہرائے گی، ہم نے کچھ سبق سیکھا ہے۔وہ پرامید ہیں کہ صدر کرزئی امن مذاکرات پر پیشرفت کے لیے آمادہ ہیں کیونکہ افغان عوام کی اکثریت چاہتی ہے کہ مفاہمانہ کوششیں کامیاب رہیں۔ادھر تاثر یہ ہے کہ امریکی خصوصی نمایندہ جیمز ڈوبنز افغان صدر حامد کرزئی کو دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفترکھولنے پراعتماد میں نہ لینے کے مسئلے پر منانے میں ناکام ہوگئے۔ ادھر کرزئی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات صرف اور صرف افغان حکومت کی قیادت میں ہی ہوں گے۔

اگر امریکا نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کیے تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے، قطر میں طالبان کے دفتر کوقونصل خانے کی حیثیت دی جارہی ہے۔ پاکستان نے بھی برملا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کرزئی انتظامیہ کے متضاد رویہ کے باعث دوحہ امن مذاکرات کا عمل ناکام ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں امریکا کے خصوصی نمایندے جیمز ڈوبنز کی پاکستان آمد کے موقع پر وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر ایسا کوئی نتیجہ اخذ کرنا بڑا مشکل ہے کہ دوحہ مذاکرات میں کوئی کامیابی حاصل ہو جائے گی، ہم ان مذاکرات کی کامیابی کے خواہاں ہیں تاہم افغان صدر حامد کرزئی کی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عمل کسی بھی وقت اچانک ختم ہو سکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حامد کرزئی نہ دوحہ مذاکرات کی کامیابی اور نہ ہی آیندہ سال افغانستان میں صدارتی انتخابات چاہتے ہیں۔ دوحہ آفس کے نام اور پرچم کے حوالے سے جیمز ڈوبنز نے کہا کہ افغان طالبان نے یہ اقدامات کر کے پروپیگنڈا چال چلنے کی کوشش کی تھی۔ یہی وہ نقطہ ہے جس پر پاکستان اصرار کرتا ہے کہ افغان استحکام پاکستان کی عملی شراکت اور مشاورت کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیے دوحہ میں امریکا، افغانستان، پاکستان اور طالبان کی متفقہ قیادت کو مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ خطے کو امن نصیب ہو۔اور آگے چل کر فوجی طاقت کے بہیمانہ استعمال کے ساتھ ساتھ بات چیت کا فارمولا کسی حقیقت پسندانہ انجام تک پہنچے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری دورہ بھارت میں طالبان پر زور دیتے رہے کہ وہ مذاکرات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کو شکست نہیں ہوئی مگر جیت ان کی بھی نہیں ہوگی۔تاہم یہ خوش آیند امر ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں نواز شریف نے امن کے لیے ہونے والی ہر کوشش کی حمایت کا یقین دلایا۔مگر ساتھ ہی انھوں نے صدر کرزئی کو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے پاکستانی طالبان کی سرحد پر کارروائیوں پر اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے ان کی پاکستان حوالگی اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔

افغان صدر نے یقین دلایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے۔اس زبانی کلامی سے صدر کرزئی کو اب آگے بڑھنا چاہیے۔ وہ اپنے طرز عمل پر بھی غور کریں کہ ان کا ملک سماجی و اقتصادی طور پر جل رہا ہے، بدامنی خطے اور افغان عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے، پاکستان سمیت دیگر ممالک اس سے شدید متاثر ہیں،سپر پاور امریکا پاکستان میں ڈرون حملوں کو اس صورتحال کے جواز کے طور پر پیش کررہا ہے۔

اگر امن ہوا تو سب کے مفاد میں ہوگا۔برطانیہ کے موقر جریدہ 'اکنامسٹ' نے افغانستان کے مستقبل کے عنوان سے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں دوحہ مذاکرات کے حوالہ سے اشارہ دیا ہے کہ افغانستان میں امن اگرچہ ''ہنوز دلی دور است'' کے مصداق ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔در حقیقت پاکستان سمیت پوری دنیا کو اس بات سے دلچسپی ہے کہ افغانستان سے بدامنی ،شورش ،وار لارڈازم، پوست کی کاشت،اسلحہ کی اسمگلنگ، سرحد پار دہشت گردی اور القائدہ سمیت تمام جہادی اور انتہا پسند گروپوں کی آماجگاہ بننے کے بجائے جمہوریت اور امن کا گہوارہ بن جائے۔اس منزل کی تلاش میں پاکستان کا کردار واضح ہے۔کسی کو شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔