سرمایہ کاری کے لیے امن پہلی شرط

پاکستان میں کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے موجود ہیں، اسحاق ڈار


Editorial June 26, 2013
پاکستان میں کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے موجود ہیں، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، فوٹو : فائل

KARACHI: پاکستانی معیشت عدم استحکام کا شکار ہوچکی ہے جسے دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دبئی میں دو روزہ پاک امریکا سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقعے پر وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان میں کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے موجود ہیں، نیز ملک کو تین سنگین چیلنجوں توانائی کا بحران، معیشت کی بحالی اورانتہا پسندی کا سامنا ہے، یہ تینوںچیلنجز یکساں توجہ کے متقاضی ہیں۔ وزیر خزانہ کے خیالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ ملک وقوم کے مسائل کا نہ صرف ادراک رکھتے ہیں بلکہ انھیں فوری طور پر حل بھی کرنا چاہتے ہیں ۔

لیکن اس ضمن میں چند گزارشات پر غور اور توجہ کی ضرورت ہے ۔اعداد وشمار کے گورکھ دھندے سے نکل کر زمینی حقائق اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ازسرنو پالیسی بنائی جائے۔ سب سے پہلے تو گردشی قرضے اتارنے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے کشکول پھیلانے کی آخر ضرورت کیا ہے، یہ تو وہی بات ہوئی کہ قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لے لیا جائے اور اصل قرض سود در سود بڑھتا رہے ۔ پاکستان کا معاشی حب کراچی ہے لیکن پانچ سال سے جاری ٹارگٹ کلنگ اور امن وامان کی دگرگوں صورتحال کے باعث کراچی کے صنعت کار اپنے یونٹ بند کر کے ملائیشیا، بنگلہ دیش اور ہانگ گانگ سمیت دیگر ممالک میں شفٹ ہوچکے ہیں یا پھر پنجاب میں پیداواری یونٹ منتقل کرچکے ہیں ۔

اس حوالے سے وفاقی حکومت صوبہ سندھ کی انتظامیہ کو اعتماد میں لے کر امن وامان کو بحال کرے اور تاجروں اور صنعت کاروں کو قاتلوں اور بھتہ خوروں سے نجات دلائے توکراچی کے صنعتکاروں میں اتنا پوٹینشل ہے کہ وہ ملکی معیشت کو دوبارہ مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں ۔پاکستانی معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے نئی حکومت کو پہلے پاکستانی صنعتکاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ گوکہ وزیرخزانہ نے اس موقعے پر پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ الیکٹرانک میڈیا، توانائی، تیل اورگیس کے شعبوںمیں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے موجود ہیںجب کہ بینکاری، مالیات اورٹیلی مواصلات کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے امریکی سرمایہ کاری اور سرمایہ داروں کوتحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ۔بلاشبہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں، یہ بھی درست ہے کہ پاکستان اور امریکا دیرینہ دوست ممالک ہیں ۔پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کے مطابق امریکا کی مدد سے پاکستان میں بجلی کی پیداوارمیں965 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے،اور پاکستانی کمپنیوں کی استعدادکار بڑھانے میں مددکریں گے۔ کانفرنس کا انعقاد خوش آیند ضرور ہے لیکن اس کے مثبت نتائج کی توقع رکھنے سے پہلے ہمیں ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ریلوے ، پی آئی اے کو فعال بنانا ہوگا اور بند صنعتی یونٹوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے نظام میں بہتری لانی ہوگی۔درآمدات کے بجائے برآمدات میں اضافے کی پالیسی اپنانا ہوگی ،سرکاری اداروں میں کرپشن کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہوگا ۔

مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا پڑے گا۔سچ تو یہ ہے کہ جب تک ملک کے طول وعرض میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کے خواب کو دیوانے کا خواب ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔نئی حکومت کے کرنے کے دو اہم کام ہیں اول امن وامان کی بحالی اور دوئم توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ۔ پہلے ان پر عملدرآمد کریں،ملکی سرمایہ کار اور محنتی ، جفاکش عوام دوبارہ ملکی معیشت کا پہیہ رواں دواں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جب ہم بحیثیت قوم خود کچھ کر کے دکھائیں تو بلاشبہ بیرونی سرمایہ کار دوڑے چلے آئیں گے ۔