غیر قانونی حراست میں لیے گئے شہری کے بارے میں رپورٹ طلب

وکلاکو ہدایت کی کہ وہ دونوں حکومتوں کے تحت کام کرنیوالی ایجنسیوں...


Staff Reporter August 19, 2012
ہائیکورٹ نے لائنز ایریا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کرلی۔ فوٹو: ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی حراست کے متعلق قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے رپورٹ طلب کرلی ، سید اسلم شاہ نے آئینی درخواست دائر کی ہے کہ پولیس اور رینجرز نے 17جولائی کو اس کی رہائش گاہ واقع شیرشاہ کالونی پر چھاپہ مارا اور اس سمیت اس کے دوبیٹوں سید انعام اورسید عارف کو حراست میں لے لیا تاہم بعد میں اسے اور اس کے بیٹے سید عارف کو رہا کردیا لیکن دوسرے بیٹے انعام کو نہ صرف حراست میں رکھا بلکہ یہ بھی علم نہیں کہ اسے کس حال میں اور کہاں رکھا ہوا ہے۔

رینجرز کی جانب سے عدالت میں داخل کیے گئے جواب میں الزامات سے انکار کیا گیا ہے اور موقف اختیارکیا گیا ہے کہ درخواست گزار کا بیٹا انعام اس کی تحویل میں نہیں ،جسٹس شاہد انور باجوہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے رینجرز کے کمنٹس آنے کے بعد وفاقی وصوبائی حکومتوں کے وکلاکو ہدایت کی کہ وہ دونوں حکومتوں کے تحت کام کرنیوالی ایجنسیوں سے درخواست گزار کے بیٹے کے کوائف معلوم کریں اور آئندہ سماعت 28 اگست تک عدالت کو آگاہ کریں، علاوہ ازیں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیف انجینئر کو 10یوم میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لائنز ایریا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ ایریا میں تجاوزات کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ پروجیکٹ کی رفاہی بیلٹ میں کمرشیل پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی وجہ سے علاقے میں بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، علاقے کا واحد برساتی نالہ اس سے متاثر ہوا ہے، پینے کے پانی کی لائنیں ان پلاٹوں کے نیچے آگئی ہیں،مبارک شہید روڈ کو شاہراہ فیصل سے ملانے والے 150فٹ کی سڑک کی چوڑائی بھی متاثر ہورہی ہے جس کے باعث علاقے کے مکینوں کو اس اہم شاہراہ تک رسائی میں مشکلات ہیں ،محفوظ النبی ایڈووکیٹ نے عدالت کی توجہ دلاتے ہوئے کہا .