اسپانسرشپ معاہدوں کا شیئر پی سی بی نے فرنچائزز کو وعدوں پر ٹرخا دیا

فوری طور پرکسی اضافے سے گریز،احسان مانی نے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کرا دی، ذرائع


Saleem Khaliq November 23, 2018
بائیکاٹ کرکے جانے والے ایک اونرکوسمجھا بجھاکرروکا گیا،چیئرمین کا رویہ اچھا رہا،بعض ساتھی منفی انداز اپنائے رہے۔ فوٹو: فائل

پی سی بی نے پی ایس ایل فرنچائزز کو وعدوں پر ٹرخا دیا اور فوری طور پر اسپانسرشپ و دیگر ڈیل کا حصہ بڑھانے سے گریز کیا گیا۔

پی ایس ایل گورننگ کونسل کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں چیئرمین احسان مانی کی زیرصدارت ہوا، اس موقع پر گرما گرم بحث ہوئی البتہ پی سی بی نے فرنچائزز کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں فرنچائز مالکان نے حکام سے شکوہ کیا کہ وہ مسلسل خسارے کا شکار ہیں اور آمدنی کی فی الحال کوئی امید بھی نہیں لگتی، اس حوالے سے بورڈ کو اقدامات کرنا ہوں گے،انھوں نے مطالبہ کیا کہ ٹائٹل اسپانسر شپ سمیت دیگر تمام ڈیل میں ان کا حصہ بڑھایا جائے۔

موجودہ طریقہ کار کے تحت آدھا حصہ پی سی بی اور باقی تمام فرنچائزز کو ملتا ہے، حال ہی میں بورڈ نے ایک بینک کے ساتھ 14.30 ملین ڈالر کا ٹائٹل اسپانسر شپ معاہدہ کیا، فرنچائزز کو اعتراض ہے کہ اس کا آدھا حصہ بھی پی سی بی کے حصے میں چلا جائے گا جو درست نہیں ہے، اسی کے ساتھ گیٹ منی و دیگر ذرائع آمدنی میں بھی فرنچائزز کے حصے میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔

احسان مانی نے یہ باتیں تحمل سے سنیں اور غور کرنے کا یقین دلایا البتہ بعض دیگر آفیشلز کا رویہ دوستانہ نہیں تھا،ایک موقع پر بعض فرنچائزز نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ ٹیمیں چھوڑ دیتے ہیں، اس پر ایک بورڈ آفیشل نے کہا''ضرور ہمارے پاس کئی خریدار موجود ہیں'' جواب میں ان سے کہا گیا کہ ''ہاں ملتان سلطانز جیسے ہوں گے جو رقم کی ادائیگی ہی نہ کر سکیں''۔

ساتھ ہی فرنچائزز نے انھیں یاد دلایا کہ جب پی ایس ایل شروع ہوئی تو کوئی اچھی قیمت پر ٹیمیں خریدنے کو تیار نہ تھا تب یہی لوگ سامنے آئے تھے۔ اب تین سال کا مشکل دور گذرگیا تو بجائے نقصان کا ازالہ کرنے کے جانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، اس وقت چیئرمین نے مداخلت کر کے سب کو تحمل مزاجی کا مشورہ دیا، فرنچائز اونرز نے یہ بھی شکایت کی کہ اگر بینک گارنٹی یا فیس کی ادائیگی میں تاخیر ہو تو فوراً بورڈ یہ بات میڈیا میں لے آتا ہے جس سے انھیں سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ سلسلہ بھی رکنا چاہیے۔

ذرائع نے بتایا کہ گرما گرمی کے ماحول سے تنگ آ کر ایک فرنچائز اونر میٹنگ کا بائیکاٹ کر کے جانے لگے مگر انھیں سمجھا بجھا کر روکا گیا۔ پی سی بی کو ایسا نہیں لگتا کہ تمام فرنچائزز کو مالی خسارہ ہوا ہے۔

حکام کی رائے کے مطابق بعض کو تو پہلے ایڈیشن میں بھی فائدہ ہوا تھا، اسی لیے سب سے کہا گیا کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹس پیش کریں پھر درخواست پر غور کیا جائے گا، اس پر بھی فرنچائزز آمادہ نہیں ہوئیں۔ اب پی ایس ایل کی براڈ کاسٹنگ ڈیل کا ٹینڈر رواں ماہ کے اواخر میں کھلے گا اس میں سے 80 فیصد حصہ فرنچائزز اور باقی پی سی بی کا ہوتا ہے، اس میں بھی اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے، چونکہ فرنچائزز کے پاس کرکٹ سے آمدنی کے دیگر بڑے ذرائع موجود نہیں لہذا وہ اسپانسر شپ اور براڈ کاسٹنگ کی رقم پر ہی انحصار کرتی ہیں۔

مرکزی پول میں جمع ہو کر رقم پاس پہنچنے تک ان کا حصہ کم ہو چکا ہوتا ہے، ڈالر کی قیمت کو پر لگنے سے بھی اونرز پریشان ہیں، ان کے معاہدے ڈالرز میں ہی تھے لہذا اب سب کو فیس کی مد میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔ پی سی بی اب صورتحال پر غور کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل گورننگ کونسل میں چیئرمین بورڈ احسان مانی کے ساتھ سی او او سبحان احمد، سی ایف او بدر منظور خان، سینئر جی ایم مارکیٹنگ صہیب شیخ، جنرل منیجر لیگل سلمان نصیر، ہیڈ آف پلیئر ایکویزیشن اینڈ مینجمنٹ پی ایس ایل عمران احمد خان اور تمام فرنچائز اونرز شامل ہیں۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر نائلہ بھٹی بھی اس کا حصہ تھیں مگر اب وہ مستعفی ہو چکیں اور مزید چند روز ہی پی سی بی کیلیے کام کریں گی، نائلہ کی ٹانگ میں فریکچر ہے،اسی لیے وہ منگل کو ڈرافٹ کے موقع پر بھی موجود نہیں تھیں۔