’’آباد‘‘ کا واٹر بورڈ کیخلاف احتجاج شاہراہ فیصل پر دھرنا

سندھ اسمبلی جانا پڑا تو جائیں گے، چیئرمین آباد حسین بخشی


Staff Reporter November 23, 2018
کسی پروجیکٹ کو پانی دینے کا وعدہ نہیں کر سکتا، ایم ڈی واٹر بورڈ۔ فوٹو: فائل

کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کا این او سی نہ ملنے کے خلاف ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سیکڑوں ممبران اپنے ملازمین اور الائیڈ انڈسٹری سے منسلک ہزاروں افراد کے ہمراہ احتجاج کیلیے جمعرات کو سڑکوں پرآگئے اور بعد ازاں شاہراہ فیصل پر ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

کراچی میں بزنس کمیونٹی کا جمعرات کو ہونے والاسب سے بڑا احتجاج تھا، بلڈرز کامطالبہ تھاکہ واٹر بورڈ منصوبوں کے لیے 6ماہ سے رکے ہوئے 535 این اوسی جاری کیے جائیں تاکہ 600ارب روپے کی سرمایہ کاری سے بننے والے منصوبوں کا آغاز کا جاسکے۔

احتجاجی ریلی کا آغاز آباد ہاؤس سے ہوا، مظاہرین موٹرسائیکلوں، ٹرکوں اور کاروں پر سوار راشد منہاس روڈ سے ہوتے ہوئے شاہراہ فیصل پہنچے۔ احتجاج ریلی باعث شاہراہ فیصل پر ایئرپورٹ سے شہر کی جانب جانے والی ٹریفک معطل ہوگئی، مظاہرے کی قیادت آباد کے چیئرمین حسن بخشی اور سابق چیئرمین محسن شیخانی کررہے تھے۔

چیئرمین آباد حسن بخشی کا کہنا تھاکہ 6ماہ سے این او سی نہیں دی جارہی،قانون کے خلاف تعمیرات کو فروغ دیا جارہا ہے،واٹر بورڈ کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن داخل کی ہے۔ بلڈنگ کنسٹرکشن کی کراچی کے لیے وہی اہمیت ہے جو ٹیکسٹائل کی فیصل آباد کے لیے ہے،1000 ارب روپے کی اراضی بھی پروجیکٹس کی منتظر ہے،500 ارب روپے سے زائد کے پروجیکٹس این او سی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں اورمزید800 منصوبے پائپ لائن میں ہیں جو پہلے سے جاری منصوبے مکمل نہ ہونے سے زیرالتوا ہیں۔

مظاہرین نے شاہراہ فیصل پر ایم ڈی واٹر بورڈ سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا دے دیا جبکہ سیکریٹریٹ میں لگے شامیانے میں پریس کانفرنس کی گئی جس میں سیاسی اور تاجر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حسن بخشی اور محسن شیخانی نے کہا کہ تمام این او سیز کے غیر مشروط اجراسے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے اور این او سی لیے بغیر احتجاج ختم نہیں ہوگا۔

پریس کانفرنس میں ایم ڈی واٹر بورڈ بھی پہنچے جنھوں نے مظاہرین کو مشروط این او سی جاری کرنے کی پیشکش کی جو مظاہرین نے مسترد کردی جس پر سیاسی رہنماؤں کی مصالحت سے مذاکرات شروع ہوئے جو ڈھائی گھنٹے جار ی رہے اس دوران ایم ڈی واٹر بورڈ نے حیلے بہانوں سے کام لیا تو مظاہرین نے شاہراہ فیصل کے دونوں ٹریک پر دھرنا دے دیا اور ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

آخر کار ایم ڈی واٹر بورڈ نے ہتھیار ڈال دیے اور دن بھر جاری رہنے والا یہ ہنگامہ اختتام پذیر ہوگیا، چیئرمین آباد نے میڈیا کو بتایا کہ تمام پروجیکٹس کو4دن میں این او سی دینے کی تحریری یقین دہانی کرائی ہے جس کے ضمانتی ڈاکٹر فاروق ستار، آفتاب صدیقی، عالمگیر خان اور ارشد وہرا ہیں اگر اس یقین دہانی پر عمل نہ ہوا تو دوبارہ دھرنا دیں گے۔

آباد والے واٹر کمیشن اور سپریم کورٹ سے رجوع کریں، سعید غنی

سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز (آباد) کی جانب سے واٹر بورڈ کے خلاف دھرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ این او سی سمیت دیگر کے حوالے سے ہدایات محکمہ بلدیات یا واٹر بورڈ کی جانب سے نہیں بلکہ واٹر کمیشن اور سپریم کورٹ کے احکام پر ہیں اس لیے آباد کی جانب سے واٹر بورڈ یا محکمہ بلدیات کے خلاف احتجاج اور دھرنا بلاجواز ہے۔

آباد کے احتجاجی مظاہرے کیلیے واٹربورڈکی سہولت کاری

شہریوں کیلیے سوہان روح بننے والے مظاہرے کیلیے اسٹیج ایم ڈی واٹر بورڈ سیکریٹریٹ کے احاطے میں سجایا گیا ،شاہراہ فیصل پر ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے مظاہرے کیلیے بڑا پنڈال ایم ڈی واٹر بورڈ کے سیکریٹریٹ کے احاطے میں ایک روز قبل ہی لگادیا گیا جس میں400 کے لگ بھگ وی آئی پی کرسیاں بھی لگائی گئیں۔

واٹر بورڈ کے ایم ڈی کے دفتر میں مظاہرے کے انتظام سے محسوس ہوتا ہے کہ مظاہرے کے لیے واٹر بورڈ نے مکمل معاونت فراہم کی۔ بڑے بلڈرز کو واٹر بورڈ کے احاطے میں مخصوص پارکنگ لاٹ بھی فراہم کیا گیا۔ دن بھر جاری رہنے والے اس مظاہرے میں واٹر بورڈ کا محکمہ اور بلڈرز شہریوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہے۔

بظاہر ایم ڈی واٹر بورڈ کے خلاف کیا گیا مظاہرہ حالات و شواہد سے واٹر کمیشن پر دبائو کا حربہ محسوس ہوا احتجاجی مظاہرین نے پانی چاہیے 'ہانی' نہیں کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے پریس کانفرنس میں پراسرار رویہ اختیار کیا جس میں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں جیسی صورتحال رہی، ایم ڈی واٹر بورڈ نے این او سی روکنے کی کوئی تکنیکی وجہ بیان نہیں کی اور مشروط این او سی جاری کرنے کی پیشکش کرتے رہے تاہم مذاکرات کے بعد موم کی طرح نرم پڑگئے اور6 ماہ سے زیر التوا 600سے زائد این او سیز 4 روز میں جاری کرنے کی تحریری یقین دہانی جاری کردی۔

مظاہرے اور احتجاج میں ڈاکٹر فاروق ستار، پی ٹی آئی کے ایم این اے آصف صدیقی، عالمگیر خان، ارشد وہرا نے شرکت کی ،کراچی چیمبر میں برسراقتدار گروپ کے سرپرست اعلیٰ سراج قاسم تیلی، ایف پی سی سی آئی کے رہنما حسیب خان اورخالد تواب بھی مظاہرین سے اظہار یک جہتی کے لیے ایم ڈی واٹر بورڈ کے دفتر پہنچے تاہم وزیر بلدیات سعید غنی سمیت سندھ حکومت کے کسی نمائندے یا رکن صوبائی و قومی اسمبلی نے زحمت نہ کی۔