سندھ میں ایڈز کے 36 ہزار مریض ہیں وزیر صحت کا اعتراف

بلڈ اسکریننگ نہ ہونے کے باعث مرض بڑھ رہا ہے، پولیس اہلکاروں میں ایڈزکا مرض موجود ہے، ڈاکٹر عذرا پیچوہو


Staff Reporter November 27, 2018
نصرت سحر عباسی کیلیے دعائے صحت، ایوان میں تمام محکموں کے وزرا موجود ہیں، سیکریٹریزکی ضرورت نہیں، وزیراعلیٰ کی وضاحت۔ فوٹو: فائل

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا ہے کہ سندھ میں ایڈز کے 36 ہزار مریض ہیں۔

گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے ایوان میں محکمہ صحت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاہے کہ سندھ میں ایڈز کے 36 ہزار مریض ہیں اور سندھ حکومت کی جانب سے ایڈز کنٹرول کے لیے یوسی کی سطح پر کام کیا جارہاہے، بلڈ اسکریننگ نہ ہونے کے باعث لوگوں میں یہ مرض بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رکن اسمبلی خرم شیرزمان نے کہا کہ کچھ مریض چانڈکا اسپتال میں گردے کا ڈائلیسس کرانے گئے تھے ان میں ایڈز نکل آیا ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاکہ چانڈکا اسپتال میں بلڈ اسکریننگ کا سسٹم نہیں ہے، سکھر چانڈکا اسپتال میں یہ سہولت اب فراہم کی جارہی ہے۔

وزیر صحت نے بتایاکہ گزشتہ6ماہ میں 889 افرادایڈزکا شکار ہوئے۔ سیکس ورکرز کے علاوہ پولیس اہلکاروں میں ایڈزکا مرض موجودہ ہے، سندھ میں ایڈز کے 6800سے زائد رجسٹرڈمریض ہیں۔ سندھ میں ایڈزکا شکارافرادکی تعداد36ہزارسے زائد ہوسکتی ہے، سماجی پابندیوں کے سبب ایڈز پرہرفورم پربات نہیں کی جاتی، ہم ایچ آئی وی اسکریننگ کیلیے کام کررہے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر عباسی کی صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔ ایوان میں دعا کی درخواست پیپلزپارٹی کی شمیم ممتاز نے کی اورکہا کہ نصرت سحر عباسی کے بغیر ایوان بہت سْوناسا ہے۔ ایوان میں جوتی ہے نہ جوتی والی ہے۔

شمیم ممتازکے اس جملے پر ایوان میں بعض ارکان نے قہقہے لگائے۔ شمیم ممتازنے صوبے میں باران رحمت کے لیے بھی دعا کی۔ ایوان میں سندھ پولیس کے شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لیے دعا کے علاوہ چینی قونصل خانے پر حملے میں شہید 2 شہریوں کے ایصال ثواب کے لیے بھی دعا کی گئی۔ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کی بازیابی اور بے گناہ اسیر کارکنان کی رہائی کے لیے بھی دعا کی گئی۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر آغا سراج درانی نے وزیر اعلیٰ سے کہا ہے کہ وہ تمام انتظامی محکموں کے سیکریٹریز کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ اجلاس کے موقع پرایوان میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔ آغا سراج کی اس ہدایت پر وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ ایوان میں تمام محکموں کے وزرا موجود ہیں، سیکریٹریزکی ضرورت نہیں۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران توجہ دلاؤ نو ٹس کا جواب دیتے ہوئے سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے کہاہے کہ 1950 کے شوگر کین ایکٹ کے تحت حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مقررہ وقت پر گنے کے ریٹ طے کیے جائیں۔گنے کا جلد ریٹ طے کرکے اعلان کردیا جائے گا۔ سندھ میں30 نومبر سے قبل کرشنگ شروع کردی جائے گی۔

وزیربلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ متحرک وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہیں۔ جنہوں نے ہمیشہ ہر فورم پر سندھ کے مفادات کے تحفظ کی بات کی ہے ، اپوزیشن کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ وزیر اعلیٰ نے پانی کی قلت کا مسئلہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے نہیں اٹھایا۔ انھوں نے یہ پالیسی بیان پیر کی شب سندھ اسمبلی کے ایوان میں کراچی ، حیدر آباد اور میر پور خاص میں قلت آب سے متعلق ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے پیش کردہ التوا کی3 ایک جیسی تحاریک پر تقریر کرتے ہوئے دیا۔