نئی توانائی پالیسی کی تیاری

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعہ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئی توانائی پالیسی کو حتمی شکل...


Editorial June 29, 2013
وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعہ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئی توانائی پالیسی کو حتمی شکل دے کر اس کی منظوری دیدی گئی۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعہ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئی توانائی پالیسی کو حتمی شکل دے کر اس کی منظوری دیدی گئی تاہم اس پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ نئی توانائی پالیسی کی اصولی منظوری وزیر اعظم کے دورہ چین سے قبل دی گئی ہے تا کہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے مختلف چھوٹے اور بڑے منصوبوں کے حوالے سے چینی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جا سکے۔

اس اہم اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ لوڈ شیڈنگ اگلے 3 برسوں میں مرحلہ وار ختم کر دی جائے گی جب کہ 300 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے سوا تمام صارفین کے لیے سبسڈی ختم کر دی جائے گی ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پالیسی کا مسودہ وزیر اعظم کی باضابطہ منظوری کے بعد مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کر کے صوبوں کی رضامندی حاصل کی جائے گی اور وزیر اعظم چین کا دورہ شروع کرنے سے پہلے متوقع طور پر نئی توانائی پالیسی کا اعلان کر دیں گے۔

ملک میں بجلی کے دو کروڑ سے زاید صارفین ہیں جن میں سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ایک یونٹ بجلی پر حکومت کی تقریباً پونے پندرہ روپے پیداواری لاگت آتی ہے جس میں حکومت 270 ارب روپے کی سبسڈی دیتی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت سبسڈی میں چالیس فیصد کمی کر دی جائے گی اور حکومت بجلی کی پیداوار 12200میگاواٹ سے بڑھا کر26 ہزار800 میگاواٹ تک لے جائے گی جس کے لیے تھرمل یعنی تیل سے بجلی پیدا کرنے کی بجائے ہائیڈرو یعنی پانی، سولر یعنی شمسی، ونڈ یعنی ہوا اور کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے گی جو نسبتاً سستے ذرائع ہیں۔

اس طرح فی یونٹ لاگت14.70روپے سے کم ہوکر متوقع طور پر 10روپے پر آ جائے گی۔ فی الوقت ہائیڈل ذرائع سے صرف 40 فیصد پیداوار حاصل کی جا رہی ہے جب کہ اس صلاحیت کو چھوٹے بڑ ے ڈیم بناکر 70 فیصد تک بڑھایا جانا ممکن ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ اپنی مدت ختم ہونے تک بجلی کی مجموعی پیداوار سینتیس ہزار میگاواٹ تک لے جائے۔ اس مقصد کے لیے کوئلے، پانی اور بائیو ماس یعنی گوبر اور کچرے وغیرہ سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بجلی کے نادہندگان کے خلاف 60 روز میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ وصولیاں بہتر بنا کر گردشی قرضہ ختم کیا جا سکے۔ حکومت ایران سے 1100 میگاواٹ، وسط ایشیائی ریاستوں اور بھارت 500،500 میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کے اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ بحران سے نکلنے کے لیے دانشمندانہ پالیسیاں اختیار کی جائیں۔

جس نئی توانائی پالیسی کی منظوری دی گئی اس میں جن اقدامات اور ترجیحات واہداف کی نشاندہی کی گئی ہے اگر انھیں حاصل کر لیا جاتا ہے تو اس سے ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ بجلی کی لوڈشیڈنگ شارٹ ٹرم میں ختم نہیں ہو سکتی۔ نئی توانائی پالیسی میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی جو مدت بیان کی گئی ہے اگر حکومت اس دوران بھی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بڑی بات ہو گی۔ ہمسایہ ممالک سے بھی رجوع کیا جانا چاہیے۔ اگر بھارت بجلی دینے کے لیے تیار ہے تو اسے عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے اگر نیک نیتی اور بہتر منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو توانائی کے بحران پر قابو پانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ پنجاب میں بائیو گیس سے توانائی کے حصول کے وسیع مواقع موجود ہیں اور پنجاب حکومت اس ضمن میں ایک جامع پالیسی تشکیل دے رہی ہے جس کے تحت دیہات میں بائیوگیس کے پلانٹ لگائے جائیں گے جب کہ بائیو گیس سے ٹیوب ویل چلانے کے حوالے سے بھی کام کیا جا رہا ہے۔ یہ بہترین طریقہ ہے، سندھ' خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی بائیو گیس پر کام کرنا چاہیے۔ صوبائی حکومتیں بائیو گیس اور سولر توانائی پر توجہ دیں تو دیہات میں تقریباً مفت بجلی فراہم ہو سکتی ہے۔ بھارتی پنجاب میں تو بائیو گیس منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں اور وہاں کا کسان ان سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ نے ایک یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ میانوالی میں سلیکون موجود ہے جو سولر پینل بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ کوئی غیرملکی کمپنی اس سلیکون کو استعمال میں لاتے ہوئے پاکستان میں سولر پینل تیار کرے۔ صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر صوبے میں قدرت نے وسائل فراہم کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں چھوٹی چھوٹی آبشاروں' ندی نالوں سے دیہات کو مفت بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سندھ میں تیل وکوئلہ وافر ہے، وہاں بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ بلوچستان وسائل سے مالامال ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں توانائی کی کوئی کمی نہیں، صرف حکمرانوں کی نیت خراب رہی جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔