پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھنے کا عذاب

پٹرولیم منصوعات میں اضافے کو تو حکومتوں نے اپنا معمول بنالیا ہے‘ چاہے وہ سابقہ ہویا موجودہ۔گزشتہ روز نو...


Editorial July 01, 2013
ایک فیصد اضافی جی ایس ٹی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں86 پیسے اورڈیزل کی قیمت میں 90پیسے کا اضافہ کردیا گیا فوٹو: فائل

KARACHI: پٹرولیم منصوعات میں اضافے کو تو حکومتوں نے اپنا معمول بنالیا ہے' چاہے وہ سابقہ ہویا موجودہ۔گزشتہ روز نو منتخب حکومت نے بھی ''پٹرول بم'' عوام پرگرایا ہے ۔

پٹرول کے نرخوں میں اضافے کابہانہ تاجر، صنعتکار اور ٹرانسپورٹر طبقے کے ہاتھ خوب آیا ہے وہ فوراً سے پیشتر اشیائے خورونوش سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ کرلیتے ہیں۔ مہنگائی بڑھنے کا ایک بڑا سبب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز کا اضافہ ہے، اس اہم ترین مسئلے کے حل کے لیے عوام کو بہتر پالیسی کی توقع تھی لیکن موجودہ فیصلے کو گزشتہ پالیسیوں کاتسلسل ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔کم ازکم تین ماہ تک تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک سطح پر رہنی چاہیے تھیں ۔ عوام نے موجودہ نمایندوں کو اس لیے منتخب کروایا تھا کہ وہ ان کے مسائل میں کمی کے لیے عملاً کچھ کریں گے ۔

لیکن نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ایک یا کئی جماعتوں پر مشتمل جمہوری حکومتیں تو قائم ہورہی ہیں اوراپنا دورانیہ بھی پوراکررہی ہیں لیکن انھیں کسی بھی سطح پر عوام کے دکھوں اور مسائل کا ذرا بھی احساس نہیں۔ نئے بجٹ میں نئی حکومت نے جی ایس ٹی میں مزید ایک فیصداضافہ کر کے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار کی رات سے ہو گیا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی منڈی میں ہونے والے اتار چڑھائو سے منسلک کیا گیا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ نظام خوش اسلوبی سے چل رہا ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس نظام سے فائدہ کے بجائے نقصان ہو رہا ہے' پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے نام پر اکثر اضافہ ہی کیا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑتا ہے' ماضی میں تیل کی قیمتوں کا تعین سالانہ بجٹ کے موقع پر کیا جاتا تھا' اس طریقے سے سارا سال معیشت بہتر انداز میں کام کرتی تھی' ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی نہیں بڑھتے تھے اور تاجروں کے لیے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ نہیں ہوتا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہو گئی ہے' اب گیس کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھیں گے' یوں عام آدمی براہ راست متاثر ہو گا۔