پولیس اور رینجرز کا آپریشن کنواری کالونی سے ماربل فیکٹری کا مالک بازیاب

پولیس کا محاصرہ دیکھ کر ملزمان فرار ہوگئے، مکان میں قید مغوی خرم ابراہیم خود ہی رسیاں توڑ کر اہلکاروں تک پہنچ گیا.


Staff Reporter July 03, 2013
چند روز قبل اغوا کیے جانیوالے تاجر کو بازیاب کرالینگے،ایس پی،متعدد تاجر اغوا ہیں، ایک کروڑ تک بھتے کی پرچیاں ملی ہیں،کاروبار بند کردیں گے، ثنا اللہ خان فوٹو: فائل

منگھوپیر میں نامعلوم ملزمان ماربل فیکٹری کے مالک کو اغوا کرکے لے گئے اور بحفاظت رہائی کے لیے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا ۔

پولیس و رینجرز نے غیر معمولی طور پر انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنواری کالونی میں آپریشن کرتے ہوئے محض چند گھنٹے بعد ہی مغوی کو بازیاب کرالیا ، تفصیلات کے مطابق منگل کی دوپہر 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان پیرآباد کے علاقے میانوالی کالونی میں واقع میمن ماربل فیکٹری میں گھسے ، فیکٹری کے مالک اور آل پاکستان ماربل ایسوسی ایشن کے سابق عہدیدار خرم ابراہیم کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر شدید ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ اس کی شناخت چھپانے کی غرض سے اسے ہیلمٹ بھی پہنادیا ،ملزمان نے مغوی کے ٹیلی فون سے ہی اہل خانہ سے رابطہ کیا اور خرم ابراہیم کی بحفاظت بازیابی کے لیے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ملزمان مغوی کو کنواری کالونی میں واقع ایک خالی مکان میں لے گئے اور رسیوں سے باندھ دیا جبکہ اسے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا ، اہل خانہ نے فوری طور پر پولیس و رینجرز کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ، پولیس حکام نے شک کی بنیاد پر کنواری کالونی کا محاصرہ کیا ،ملزمان فوری طور پر علاقہ چھوڑ کر فرار ہوگئے ، اس دوران مغوی خود ہی رسیاں توڑ کر پولیس تک پہنچ گیا ،ایس پی اورنگی ٹاؤن چوہدری اسد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مغوی کو بازیاب کرالیا جبکہ 3 ملزمان بھی گرفتار کیے ہیں جن میں سے ایک ملزم پہلے بھی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوچکا ہے ، انھوں نے مزید بتایا کہ ماربل فیکٹری کا ایک اور مالک گزشتہ 8 روز سے نامعلوم ملزمان کے قبضے میں ہے اور اس کی بازیابی کے لیے انھوں نے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا ہے۔



جلد ہی ملزمان کا سراغ لگا کر اسے بھی بازیاب کرالیں گے، علاوہ ازیں آل پاکستان ماربل مائننگ پروسیسنگ انڈسٹری اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے بانی چیئرمین ثنا اللہ خان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتظامیہ کو 2 روز کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات کا فوری سدباب کیا جائے ورنہ فیکٹریاں بند کردی جائینگی۔

انھوں نے کہا کہ خرم ابراہیم کے اغوا کے بارے میں بھی انھوں نے ہی ایس ایس پی ویسٹ آصف اعجاز شیخ کو مطلع کیا 50 فیصد فیکٹریوں کے مالکان کو بھتے کی پرچیاں آئی ہوئی ہیں ، ، چند روز قبل بھی انھوں نے آئی جی سندھ ، ڈی جی رینجرز اور دیگر متعلقہ حکام کو خط لکھے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ دس لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک بھتے کی پرچیاں انھیں موصول ہوچکی ہیں ، ایک فیکٹری کا ملک پچیس لاکھ روپے تاوان ادا کرکے گھر واپس آیا ، ماربل کٹنگ کی مشینیں بنانے والا بھی اغوا کیا ہوچکا ہے ۔