کینجھر جھیل سے کراچی کو آلودہ پانی فراہم کیا جانے لگا

جھیل سے صاف پانی نہیں مل رہا،واٹر بورڈ،ٹریٹمنٹ پلانٹ بند اور صاف پانی جھیل میں نہیں آرہا،دورہ کرنیوالی کمیٹی کی تحقیق


Staff Reporter July 04, 2013
ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا تھا کہ انھیں کینجھر جھیل سے معیاری پانی نہیں مل رہا ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: صنعتوں کے استعمال شدہ کیمیکل سے آلودہ پانی کراچی کو پانی فراہم کرنے والی کینجھر جھیل میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے جس سے پیدا ہونیوالی فصلیں انسانی صحت کے لیے خطرنا ک ہیں۔

یہ انکشاف ادارہ تحفظ ماحولیات کی ٹیم پر اس وقت ہوا جب وہ کینجھرجھیل کے پانی کے معیار پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کے تحفظات کی تحقیقات کے لیے کوٹری پہنچی، ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا تھا کہ انھیں کینجھر جھیل سے معیاری پانی نہیں مل رہا ہے اس لیے وہ پانی کی وجہ سے کراچی میں پھیلنے والے امراض کی روک تھام کے لیے جو بھی کوششیں کررہے ہیں وہ ناکافی ثابت ہورہی ہیں، ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نعیم مغل کی سربراہی میں20 جون کو ای پی اے کی ٹیم کوٹری پہنچی۔



وہاں یہ بات سامنے آئی کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کا وہ حصہ جو کے بی فیڈر سے متصل ہے وہ بند تھا اور صاف ہونے والا پانی کینجھر جھیل میں نہیں آرہا، تاہم اس وقت یہ بات بھی سامنے آئی کہ پلانٹ میں پانی بھی موجود نہیں تھا،تحقیقات کے دوران مقامی لوگوں نے ای پی اے کی ٹیم کو بتایا کہ جب سندھ میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو زمیندار کینال توڑ کر یہاں سے آلودہ پانی لے جاتے ہیں اور زراعت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جس کے باعث ان علاقوں میں ایسی فصلیں پیدا ہورہی ہیں جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں اس کے علاوہ خدا کی بستی ، لیاقت میڈیکل کالج کی رہائشی کالونی اور جامشورو کا رہائشی فضلہ بھی کے بی فیڈر میں گرایا جارہاہے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری سندھ کو سفارشات ارسال کردی گئی ہیں۔