پولیس افسروں کی تنزلی کے فیصلے پر فوری عمل ممکن نہیں ایڈووکیٹ جنرل

خلاف ضابطہ ترقیوں سے متعلق معاملے پر مہلت مانگی ہے، پھر نظر ثانی کی اپیل کرینگے.


Staff Reporter July 04, 2013
بعض افسران دہشت گردی کیخلاف اہم کردار ادا کررہے ہیں، خالد جاوید کی گفتگو. فوٹو: فائل

ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا مشکل ہے، اس لیے حکومت سندھ خلاف ضابطہ ترقیوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کریگی۔

اپنی تقرری کے بعد بدھ کو پہلی بار اپنے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر90 فیصد عملدرآمد کردیا ہے تاہم پولیس افسران کی تنزلی سے متعلق حکومت نے اپنا موقف سپریم کورٹ کو بتادیا ہے اور 2 ماہ کی مہلت طلب کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 2 ماہ کی مہلت سے متعلق فیصلہ آنے پرنظر ثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔



خالد جاوید خان نے مزید کہا کہ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کو بدامنی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اورخلاف ضابطہ ترقیاں پانے والے بعض پولیس افسران دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں محکمہ پولیس میں فی الحال اس فیصلے پر عمل ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے حکومت سندھ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ محکمہ پولیس سمیت تمام اداروں کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرے۔ انھوں نے خلاف ضابطہ ترقی پانیوالے افسران کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد میں تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دیدیاتھا،گزشتہ ہفتے خالد جاوید خان کو بحیثیت ایڈووکیٹ جنرل سندھ مقرر کیا گیا ہے۔