بینکار کے قتل میں ملوث ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

مفرور ملزم وسیم تاحال روپوش، عدالت کا ملزمان کو آج دوبارہ پیش کرنے کا حکم


Staff Reporter July 05, 2013
قانونی تقاضے مکمل نہ ہوسکے،چشم دیدگواہان کابیان قلمبند کرنا ہے،تفتیشی افسر ۔ فوٹو : فائل

عدالت نے ڈیفنس میں قتل کیے جانے والے بینکار فیصل نبی ملک کے قتل میں گرفتار ملزمان کوآج دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

جمعرات کو سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر نے قتل کے الزام میں گرفتار منصور مجاہد ، انب زہرہ حمید اور سیدہ معصومہ زینب عابدی کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز سولنگی کے روبرو پیش کیا تھا تفتیشی افسر نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے ملزمان کی نشاندہی پر مفرور ملزم وسیم کو گرفتار کرنا ہے اور7جولائی تک جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی اس موقع پر ملزمہ معصومہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ نے دوران تفتیش تعاون کیا ہے ۔



جبکہ دیگر ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے،قبل ازیں تفتیشی افسر نے عدالت میں تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ چشم دید گواہ مسماۃ آمنہ نبی ملک ، ڈاکٹر نادیہ اور سعید امین کو ضابطہ فوجدرای کی ایکٹ کے تحت بیان قلمبند کرانا ہے، فاضل عدالت نے درخواست منظور کرلی تاہم تفتیشی افسر قانونی تقاضے مکمل کرنے میں ناکام رہے جس پر فاضل عدالت نے ملزمان کوایک روز کیلیے پولیس کی تحویل دے کر آج پیش کرنے کا حکم دیا ہے،استغاثہ کے مطابق20 جون کو ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت مقتول کو انب کے فلیٹ پر بلوایا تھا اور فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔