شہر میں ڈنگی سے مزید 11 افراد متاثر 3 کی حالت تشویشناک

وائرس سے متاثرہ 16مریض اسپتالوں میں زیر علاج، وائرس کیساتھ نئی پیچیدگیاں سامنے آنے لگیں، جراثیم کش اسپرے مہم بند۔۔۔


Staff Reporter July 07, 2013
صحت کے منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں، ایڈز کا سدباب ضروری ہے، قائم علی شاہ، انسداد ڈنگی، ملیریا، پولیو، ٹی بی، خسرہ اورنگلیریا سمیت ترقیاتی اسکیموں پر بریفنگ۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

HYDERABAD: شہر میں ڈنگی وائرس سے مزید 11 افراد متاثرہ رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈنگی سرویلنس سیل کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت اندرون سندھ میں وائرس کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے سیل کے مطابق کراچی میں ڈنگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 399 ہوگئی جبکہ 3 مریض جاں بحق ہوچکے ہیں اس وقت کراچی کے مختلف اسپتالوں میں 16 ڈنگی کے مریض زیر علاج ہیں ان میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔ دوسری جانب سے کراچی میں جراثیم کش ادویات کے اسپرے مہم بھی بند کردی گئی ہے جس سے مچھروں کی بہتات میں اچانک اضافہ ہورہا ہے لیکن بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے کچی آبادیوں، مضافاتی علاقوں میں جراثیم کش اسپرے مہم بندکردی گئی ہے بلدیہ عظمیٰ کے ایک افسرکے مطابق کراچی کے عوام کو بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے تمام سروسز غیر اعلانیہ طور پربندکی جارہی ہیں۔

ان میں جراثیم کش ادویات کی مچھر مار مہم بھی شامل ہے، ماہرین طب نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈنگی وائرس سمیت دیگر وبائی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے شہر میں گندگی وتعفن کی وجہ سے صحت کے مسائل ہولناک صورت اختیارکرتے جارہے ہیں، ان ماہرین نے بتایا کہ کسی بھی سرکاری اسپتال میں ڈنگی وائرس کے مکمل علاج کی سہولت میسر نہیں ہے یہی وجہ ہے متاثرہ مریض اپنے علاج کے لیے نجی اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں۔

امسال ڈنگی وائرس سے متاثر مریضوں میں دیگر امراض کی پیچیدگیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے جس میں انسانی جسم کے اہم اعضا شدید متاثر ہورہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے تینوں اموات جو ڈنگی وائرس میں ہوئیں ان افراد کے جسم کے دیگر اعضا بھی متاثر تھے، ماہرین کا کہنا تھا کہ کراچی میں مون سون کا سیزن شروع ہورہا ہے لیکن جراثیم کش ادویات کی اسپرے مہم شروع نہیں ہوسکی ہے جس سے خطرہ ہے کہ امسال ڈنگی وائرس اپنی شدت سے حملہ آور ہوسکتا ہے۔



شہر میں ڈنگی وائرس کی شدت میں اضافہ ہورہاہے، وائرس کی شدت دسمبر تک جاری رہتی ہیں علاوہ ازیں محکمہ صحت کے جاری منصوبوں اور صحت سے متعلق صوبے بھر کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں محکمہ صحت کی طرف سے جاری انسداد ڈنگی، ملیریا، پولیو، خسرہ، ٹی بی، نگلیریا کے پروگرام سمیت دیگر ترقیاتی اسکیموں اور ان کی تکمیل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کا شعبہ حکومت سندھ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی کہ شکارپور، خیرپور اور بدین کے ڈسٹرکٹ اسپتالوں کو 6 ماہ میں مکمل کیا جائے جبکہ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ دیگر تمام منصوبے بھی اپنے مقرر وقت پر مکمل ہوں، ایڈز نہایت ہولناک بیماری ہے۔ اس کا سدباب ضروری ہے، تمام اسپتالوں کو ادویات کی فراہمی اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے،جمہوری حکومت لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش اور ترجیحی اقدامات کر رہی ہے۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری صحت نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر ڈنگی کے379 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 368 کراچی جبکہ 11 صوبے کے دیگر اضلاع میں سامنے آئے ہیں،انھوں نے بتایا کہ ڈنگی پر کنٹرول کیلیے صوبائی کمیٹی اور ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جبکہ 5 ملین روپے کی آئی سی ٹی ٹیسٹنگ کٹس خریدی گئی ہیں اور صوبے کے بڑے اسپتالوں میں ڈنگی کیئر یونٹس قائم کیے گئے ہیں جبکہ صوبہ بھر میں فیومیگیشن آپریشن کیلیے ہدایات جاری کردی گئی ہیں ، رواں ماہ میں اب تک خسرے کو 2 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ گذشتہ ماہ خسرے کے51 کیسز سامنے آئے تھے اور ایک مریض جاں بحق ہوا تھا

محکمہ صحت کی جانب سے بہتر اقدامات کی بدولت صوبہ سندھ میں خسرے کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، صوبے کے 8 ہائی رسک اضلاع میں خسرے کی ویکسنیشن کا کریش پروگرام شروع کیا گیا، جنوری تا اپریل 2013 میں6217980 بچوں کو خسرے کی ویکسین فراہم کی گئی،رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام سال 2013-14 میں محکمہ صحت کی 103 جاری اسکیموں کیلیے 13485 ملیں روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 78 نئی اسکیموں کیلیے 3514 ملین روپے سے زائد فنڈ مختص کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں سیکریٹری صحت انعام اللہ دھاریجو،ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ ڈاکٹر اشفاق میمن، سیکریٹری ایس بی ٹی اے ڈاکٹر زاہد انصاری، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ اور محکمہ صحت کے دیگرمتعلقہ افسران نے شرکت کی۔