سزائے موت پر عمل جیل حکام کی مجسٹریٹ اور ڈاکٹر تعینات کرنے کی استدعا

ازسر نو بلیک وارنٹ جاری کرنیکی درخواست ، شفقت حسین اور بہرام کوسزائے موت دی جائیگی


Staff Reporter July 09, 2013
30 جون کوسزا پر عملدرآمد سے متعلق صدراتی احکامات کی مدت ختم ہوچکی ہے اور تاحال کوئی اور صدارتی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن کو جیل حکام کی جانب سے سزائے موت کے منتظر مجرموں کے بلیک وارنٹ جاری کرنے سے متعلق درخواست موصول ہوگئی۔

جیل حکام نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ فاضل عدالت نے متعدد بار بلیک وارنٹ جاری کیے تھے تاہم مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے سے متعلق صدارتی احکامات جاری ہونے پر عمل رک گیا تھا، 30 جون کوسزا پر عملدرآمد سے متعلق صدراتی احکامات کی مدت ختم ہوچکی ہے اور تاحال کوئی اور صدارتی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں دوباہ ازسر نو بلیک وارنٹ جاری کرنے اور جیل میں جوڈیشل مجسٹریٹ اور ڈاکٹر تعینات کرنے کی استدعا کی ہے۔



سینٹرل جیل میں سزائے موت کے منتظر قتل کے مجرم شفقت حسین 10 سالہ عمیر کو اغوا کرکے قتل کردیا اور لاش ندی میں پھینک دی تھی، یکم ستمبر 2004 کو عدالت نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، سزائے موت کے منتظر قتل کے مجرم بہرام نے ہائی کورٹ میں دوران سماعت سینئر وکیل قربان چوہان کو قتل کردیا تھا، جون 2003 کو عدالت نے سزائے مجرم کو سزائے موت سنائی۔