سندھ کی افسر شاہی سپریم کورٹ کو پھرغچا دے گئی

ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو اصل محکموں میں بھیجنے کے حکم پر ادھورا عمل کیا


Staff Reporter July 09, 2013
ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو اصل محکموں میں بھیجنے کے حکم پر ادھورا عمل کیا. فوٹو: فائل

افسر شاہی ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کو غچا دے گئی، ڈیپوٹیشن اور دیگر محکموں میں انضمام کرانے والے افسران کو اصل محکموں میں بھیجے جانے کے حکم پر ادھورا عمل درآمدکیاواپڈا سے صوبائی محکمہ زراعت میں انضمام کرانے والے 15 افسران کے نام جاری کردہ نوٹیفکیشن سے ہذف کردیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سندھ حکومت واضح احکامات دیے گئے تھے کہ1994 سے جون 2013 تک مختلف محکموں میں کنٹریکٹ، ڈیپوٹیشن پر تعینات کیے جانے والے افسران کو فوری طور پر واپس ان کے اصل محکموں میں بھیجاجائے سپریم کورٹ نے آؤٹ آف ٹرن ترقی پانے والے افسران اور نئے محکموں میں اپنی سروسز کا انضمام کرانے والے افسران کو بھی واپس بھیجے جانے کا حکم دیا تھا، چند دن قبل سندھ حکومت نے آؤٹ آف ٹرن پرموشن حاصل کرنے والے پولیس افسران کے علاوہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا جس کے تحت سندھ حکومت کے تحت آنے والے تمام محکموں میں ڈیپوٹیشن اور انضمام کرانے والے افسران کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا گیا تھا تاہم افسر شاہی نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے محکمہ زراعت میں تعینات15سے زائد افسران کے نام عمل درآمد کے نوٹیفیکیشن سے ہذف کردیے ہیں، یہ تمام افسران گذشتہ چند سال کے دوران واپڈا سے محکمہ زراعت میں تعینات کیے گئے ہیں ۔



جن میں عبدالقادر پلیجو، امجد داویج، زاہد شیخ، عمران شیخ، جام مٹھا خان، مسعود سیہڑ، نوازسومرو، محمد سومار چانیہو، محمد عیسی میمن، محمد مٹھل عباسی، سلمان میمن، عبدالعلیم شیخ، رحیم قریشی، زاہد جونیجو اور الطاف شیخ شامل ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد سہیل بھی کے ایم سی کے ملازم ہیں تاہم وہ انتہائی بااثر ہونے کے باعث نہ تو ان کا آؤٹ آف ٹرن پرموشن منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی ان کے دوبارہ کے ایم سی میں بھیجاگیا ہے اس صورتحال کے باعث جن افسران کو ان کے اصل محکموں میں بھیجا گیا ہے اور ان کی تنزلی کی گئی ہے ان میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔