خام تیل کے نرخوں میں اضافہ سرمایہ کاروں کے 40 ارب ڈوب گئے

38ہزار کی نفسیاتی حد گرگئی،روپے پر دباؤ کے باعث مقامی سرمایہ کار تذبذب کا شکار، اتارچڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا


Staff Reporter December 28, 2018
کے ایس ای100انڈیکس 37853.57پوائنٹس پر بند، فوٹو: فائل

خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے ریفائنری سمیت دیگر شعبوں میں فروخت کی شدت بڑھنے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کواتار چڑھاؤکے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی38 ہزار کی نفسیاتی حد بھی گرگئی۔

مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے 39ارب99 کروڑ روپے سے زائدڈوب گئے ،کاروباری حجم گذشتہ روز کی نسبت 17.11فیصد زائد رہا جبکہ 66.20 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے بینکنگ،اسٹیل،توانائی اورکیمیکل سمیت دیگر منافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پر خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100 انڈیکس 38460 پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیا تاہم ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے پر دباؤ کے باعث مقامی سرمایہ کار تذبذب کا شکار نظرآئے اوراپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی۔

جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے۔ مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس364.50پوائنٹس کمی سے 37853.57 پوائنٹس پر بندہوا۔ مجموعی طور پر361کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے101کمپنیوں کے بھاؤ میں اضافہ،239 کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ21 کمپنیوں کے حصص مستحکم رہے۔ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے پاک ٹوبیکوکے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت 88.41 روپے اضافے سے 2888.41 روپے اورمری بریوری کے حصص کی قیمت 30.58 روپے اضافے سے839.42 روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی فلپس موریس پاک کے حصص میں ریکارڈ کی گئی۔