اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی سرمایہ کاروں کے94 ارب ڈوب گئے

مندی کے سبب 70فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں،بینکنگ اور کیمیکل سیکٹر فروخت کے اعتبار سے نمایاں رہے


Staff Reporter December 29, 2018
کاروباری سرگرمیوں کادائرہ کار 341کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا فوٹو: فائل

انسٹی ٹیوشنزکی جانب سے غیرمتوقع فروخت کی شدت بڑھنے اور سرمایہ کاروں کی پرانے سودوں کے تصفیوں میں مصروفیت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی مندی کے بادل چھائے رہے۔

جس سے انڈیکس 37800، 37700، 37600، 37500، 37400، 37300 اور 37200 پوائنٹس کی 7 حدیں بیک وقت گرگئیں۔مندی کے سبب 70فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید95ارب 34کروڑ 66لاکھ 64 ہزار 552روپے ڈوب گئے۔ ماہرین کا کہنا تھاکہ بینکنگ اور کیمیکل سیکٹر فروخت کے اعتبار سے نمایاں رہے۔

کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100 انڈیکس 686 اشاریہ 55 پوائنٹس کی کمی سے37167اشاریہ02ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 450اشاریہ 05پوائنٹس کی کمی سے 17372 اشاریہ97، کے ایم آئی30 انڈیکس 1695 اشاریہ 59 پوائنٹس کی کمی سے61443اشاریہ48 اورپی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 327اشاریہ 85پوائنٹس کی کمی سے 18182 اشاریہ 39 ہو گیا۔

کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 68اشاریہ 17فیصد زائد رہا اور مجموعی طورپر17 کروڑ44 لاکھ 40ہزار 694حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار341کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا ۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھاؤ24روپے33پیسے بڑھ کر6750روپے اورایبٹ لیبارٹری کے بھاؤ 23روپے48پیسے بڑھکر608روپے48پیسے ہوگئے۔