پاک روس دو طرفہ تجارت660ملین ڈالر تک پہنچ گئی

سال کے اختتام پر750سے800ملین ڈالر پہنچ جائیگی،تجارتی حجم مزید بڑھانے کی گنجائش ہے


Staff Reporter December 29, 2018
سی سی آئی کا تجارتی وفد روس کا دورہ کرے،روسی نمائندہ یوری کوزلو،کراچی چیمبر کا دورہ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: روس کے تجارتی نمائندے یوری کوزلو نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارت بہتری کے ساتھ رواں سال کے10ماہ کے دوران 660ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو سال کے اختتام پر750سے800ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اس ضمن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور رشین فیڈریشن کے مرکزی بینک نے جنوری 2018 میں ایک ایم او یو پر دستخط تو کیے لیکن پیش رفت انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ یہ بات انھوں نے جمعے کو کراچی چیمبرکے دورے کے موقع پر کہی۔ ڈپلومیٹک مشنز و ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی کے چیئرمین شمعون ذکی بھی تھے۔یوری کوزلو نے کہا کہ روس مختلف منصوبوں میں مصروف عمل ہے اور کراچی سے لاہور شمالی و جنوبی پائپ لائن کی تعمیر میں بھی روس پاکستان کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔

نیز جام شورو پاور پلانٹ سے 600میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبے میں بھی خدمات فراہم کررہاہے۔ روس پاکستان اسٹیل ملز کی توسیع کے لیے بھی پیش کش کر چکا ہے جبکہ روس کے گیزپروم نے ایران پاکستان پائپ لائن منصوبے کے لیے مالی مدد میں بھی دلچسپی کامظاہرہ کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے کے سی سی آئی کا تجارتی وفد روس کا دورہ کرے۔ اس موقع پر جنید ماکڈا نے بھی پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے مختلف شعبوں پر روشنی ڈالی۔