شہر میں صفائی ستھرائی کے کام ٹھپ گندگی کے ڈھیر لگ گئے

شاہراہیں اور سڑکیں کچرے سے اٹی پڑی ہیں، کچرے کے ڈھیر سے تعفن وبدبو اٹھنے لگا،صفائی مہم کے شروع کیے جانے کا امکان نہیں.


Staff Reporter July 11, 2013
پاپوش نگر میں واقع مسجد کے عقب میں سڑک پر کچرے کا ڈھیر لگا ہے جس سے راہ گیر اور علاقہ مکین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں (فوٹو :محمد نعمان)

پانچوں اضلاع میں محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام کی غفلت وکوتاہی کے باعث بلدیاتی امور درہم برہم ہوگئے ہیں اور صفائی ستھرائی کے کام ٹھپ پڑے ہیں۔

ڈیزل کی چوری اور گھوسٹ سینٹری ورکرز کے باعث گلیوں اور محلوں میں صفائی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ شاہراہیں اور سڑکیں کچرے سے اٹی پڑی ہیں، علاقوں میں کچرے کے ڈھیر سے تعفن وبدبو اٹھ رہا ہے، رمضان المبارک کے آغاز کے باوجود صفائی مہم شروع کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی میں بلدیہ شرقی ، غربی، وسطی، جنوبی اور ملیر میں صفائی ستھرائی کے کام کئی مہینوں سے شدید متاثر ہیں، تمام بلدیاتی اداروں میں ڈیزل کی چوری عام ہونے کی وجہ سے کچرا اٹھانے والی گاڑیاں کئی مہینوں سے علاقوں سے کچرا نہیں اٹھارہی ہیں۔

جس کے باعث کچرا پھیل کر اہم شاہراؤں و سڑکوں پر آگیا ہے، ماضی میں بلدیاتی اداروں میں گھوسٹ سینٹری ورکزز کی تقرری کی گئی، ان گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں کا بیشتر حصہ محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام کی جیبوں میں جارہا ہے، بلدیہ غربی میں مختلف زونز میں گزشتہ 5سالوں کے دوران 900مسلم سینٹری ورکرز کی تقرری کے انکشاف کے بعد ایڈمنسٹریٹر بلدیہ غربی گہنور لغاری نے ان تمام گھوسٹ ملازمین کو برطرف کردیا، واضح رہے کہ سینٹری ورکرز کی نوکری صرف اقلیتوں کیلیے مخصوص ہے تاہم سابقہ اورنگی، کیماڑی اور سائٹ ٹاؤنز کی انتظامیہ نے مسلم سینٹری ورکرز کا تقرر کرکے نہ صرف اقلتیوں کے کوٹے پر ڈاکہ مارا بلکہ صفائی ستھرائی کے نظام کو بھی تباہ وبرباد کردیا ، ذرائع نے بتایا کہ پانچوں بلدیاتی اضلاع میں سینٹری ورکرز کی بڑی تعداد گھوسٹ ملازمین پر مشتمل ہے۔



جبکہ جو سینٹری ورکرز ریگولر آتے ہیں وہ بھی صرف صبح کی شفٹ میں کام کرتے ہیں، 99فیصد سینٹری ورکرز دوپہر کی ڈیوٹی نہیں کرتے، ان تمام ملازمین کی تنخواہوں کا بیشتر حصہ بلدیات کے اعلیٰ افسران کی جیبوں میں جاتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ کچرا گاڑیوں کی ڈیزل میں چوری اور گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں کروڑوں روپے کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں، یہ پریکٹس کئی سالوں سے جاری ہے تاہم موجودہ دور میں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث کراچی میں صفائی ستھرائی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ افسران کی کرپشن کے باعث نچلا اسٹاف بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہے، کچرا گاڑیوں کے ڈرائیورز علاقوں سے کچرا اٹھاکر لینڈ فل سائٹ پر پھینکنے کے بجائے قریبی ویران مقامات یا برساتی نالوں میں کچرا ڈمپ کردیتے ہیں، بلدیاتی اداروں کی غفلت کے باعث علاقوں میں کچرے کے ڈھیر نہ صرف شاہراہوں سڑکوں بلکہ مساجد کے آس پاس بھی لگ گئے ہیں جن کی بدبو اور تعفن سے شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے اور نمازیوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے، رمضان المبارک کے آغاز کے باوجود ابھی تک پانچوں بلدیاتی اضلاع میں صفائی ستھرائی مہم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔