کانگو وائرس عید قرباں پرجانوروں کے نقل وحمل سے پھیلتا ہے

جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا کانگو وائرس کھال پر چپکے پسو سے ہوتاہے.


Staff Reporter July 14, 2013
پسوکے کاٹنے سے وائرس انسانی خون میں شا مل ہوکر ہیمریجک فیورکا با عث بنتا ہے ۔ فوٹو : فائل

نگلیریا، ڈائریا ،پولیواور ڈنگی کے بعد کانگو وائرس بھی کراچی پہنچ گیا رواں سال کانگووائرس میں مبتلا چھٹی مریضہ کراچی میں رپورٹ ہوئی ہے۔

اب زرینہ میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ماہرین کے مطابق کانگوائرس جانوروں میں پایاجاتا ہے، یہ وائرس متاثر جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے، ہرسال صوبہ بلوچستان میں اس وائرس کے سب سے زیادہ مریض رپورٹ ہوتے ہیں تاہم یہ وائرس پاکستان میں عید الاضحی کے موقع پر اس وقت پھیلتا ہے جب عیدقربان کے موقع پر ملک بھر سے جانوروںکی نقل حمل کی جاتی ہے ان جانوروں میں بیشترکانگوائرس سے متاثر ہوتے ہیں جوملک میں پھیلنے کا سبب بنتے ہیں۔



جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا کانگو وائرس کا جانوروں کی کھال میں چپکنے والا پسو TICK سے ہوتا ہے،یہ مخصوص کیڑا جانوروںکی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا ہے جس سے جانور لاغر اور شدید متاثر ہوتے ہیں، اور یہ وائرس متاثرہ جانورکے ساتھ براہ راست رابطے میں رہنے والے افرادکو بھی منتقل ہوجاتا ہے، (پسو)ٹس کے کاٹنے سے یہ وائرس انسانی خون میں شا مل ہوتا ہے ،جو ہیمریجک فیورکا با عث بنتا ہے،پاکستان میں 1976 میں کانگووائرس کی تصدیق کی گئی تھی،پہلا مریض بلوچستان کے علاقے کوہلو سے کراچی علاج کے غر ض سے لایا گیا تھا جو جاں بحق ہوگیا تھا، 1976میں کانگو وائرس سے ملک بھر میں25 متاثرہ مریض رپورٹ ہوئے تھے، ان میں 8 اموات کی تصدیق کی گئی تھی۔