شہری پر تشدد عدالت کا رینجرز اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم

کرنل آفتاب کے حکم پر درخواست گزارکو دھمکی دی گئی کہ یہ مقدمہ واپس لو بصورت دیگر خطرناک نتائج کے ذمے دار ہونگے۔


Staff Reporter July 17, 2013
کرنل آفتاب کے حکم پر درخواست گزارکو دھمکی دی گئی کہ یہ مقدمہ واپس لو بصورت دیگر خطرناک نتائج کے ذمے دار ہونگے۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرورکورائی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے ایس ایچ او سکھن کو شہری کے اغوا اور تشددسے متعلق رینجرز71ونگ کے کرنل آفتاب، ڈپٹی سپرٹنڈنٹ بشیر بھٹی اور سب انسپکٹر امجدعلی کے خلاف درخواست کا جائزہ لے کر کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے محمد شاکر کی درخواست نمٹاتے ہوئے ایس ایچ او سکھن کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کا بیان قلمبند کیا جائے اور اگر مقدمہ بنتا ہے تو درخواست گزار کے بیان کے مطابق درج کیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار تاجر ہے اور طلحہ ڈیری فیڈ اینڈپروڈکٹس، شاکر ڈیری فارم اور شاکر محمد انٹرپرائززکے نام سے کاروبار کرتا ہے۔شاہد علیم نامی شخص نے 28دسمبر2012کو55لاکھ66ہزار روپے کے عوض 6گائے اور45بھینسیں خریدی تھیں مگر رقم کی ادائیگی نہیں کی۔

درخواست گزار نے 5جنوری2013کو شاہد علیم کے خلاف مقدمہ درج کرادیا،28جنوری کورینجرز اہلکار درخواست گزارکودفتر سے اغوا کرکے لے گئے اور اسے 71 ونگ میں کرنل آفتاب کے روبرو پیش کیا گیا ۔ کرنل آفتاب کے حکم پر درخواست گزارکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھمکی دی گئی کہ یہ مقدمہ واپس لو بصورت دیگر خطرناک نتائج کے ذمے دار ہونگے۔ واقعے کے بعد درخواست گزار نے چیف جسٹس آف پاکستان،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور آرمی چیف کو بھی درخواستیں ارسال کیں۔عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں نہ کیاجائے ۔