بلدیہ عظمیٰ کے موجودہ اور سابق ایڈمنسٹریٹر کے وارنٹ جاری

رنچھوڑلائن کے بلوچ پارک میں عدالتی حکم کے باوجود بلند عمارت تعمیر کی جارہی ہے، درخواست گزار


Staff Reporter July 18, 2013
عدالت نے آبزروکیا کہ یہ توہین عدالت کی کارروائی ہے جس میں مدعا علیہان کا ذاتی طور پر پیش ہونا ضروری ہے۔ فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے موقع پر پیش نہ ہونے پر ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ہاشم رضا زیدی ، سابق ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید اورڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کے افسر عاصم خان کے50 ہزار روپے کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جمعرات کوکراچی رجسٹری میں پارک پر غیر قانونی تعمیرات کے الزام میں کے ایم سی افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی، سماعت کے موقع پر صرف ڈی ایم سی ساؤتھ کے ڈائریکٹر پارک حاضر تھے، عدالت نے آبزروکیا کہ یہ توہین عدالت کی کارروائی ہے جس میں مدعا علیہان کا ذاتی طور پر پیش ہونا ضروری ہے مگر ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سید ہاشم رضا زیدی ، سابق ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید اور افسر عاصم خان حاضر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی غیر حاضری کے متعلق کوئی درخواست ریکارڈ پر ہے ،عدالت نے تینوں افسران کے 50 ہزار روپے کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دیا ۔


درخواست گزار سید جواد حیدرکاظمی ایڈوکیٹ نے توہین عدالت کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ رنچھوڑلائن کے بلوچ پارک میں تجاوزات کے قیام کیخلاف انھوں نے سندھ ہائی کورٹ میں 2007میں درخواست دائر کی تھی، سٹی گورنمنٹ کے افسران نے موقف اختیارکیا کہ یہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کامرکز کھولا جارہا ہے، تاہم جسٹس سرمدجلال عثمانی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پارک میں711مربع گز کے رقبہ پر تعمیر ہونے والا ''خورشید بیگم آئی ٹی سینٹر''سربمہر کرنے کی ہدایت کردی تھی ، درخواست گزار کے مطابق بعد ازاں پی سی او دور میں سپریم کورٹ نے 23اکتوبر2008کو اس یقین دہانی پر کہ پارک میں مزید تعمیرات نہیں کی جائیں گی،درخواست نمٹادی تھی ، لیکن اس کے بعد جنوری2013میں وہاں مزید تعمیرات شروع کردی گئی ہیں، تہہ خانے بنائے جارہے ہیں اور بلند عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔


درخواست گزار نے اس سلسلے میں پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا کہ مدعا علیہان اپنی ہی یقین دہانی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ تعمیرات شروع کررہے ہیں جو کہ توہین عدالت کے مترادف ہے اس لیے انھیں تعمیرات سے روکا جائے اور اب تک کی گئی تعمیرات منہدم کرنے کا حکم دیاجائے، درخواست گزار کے مطابق کراچی جنوبی گنجان آباد علاقہ ہے، یہاں پارکس کی شدید کمی ہے، بلدیاتی اداروں نے پہلے ہی آرام باغ کے پارک میں دفاتر قائم کیے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ صدر کے جہانگیر پارک کی دیواریں گراکر وہاں گاڑیاں پارک کی جارہی ہیں ، کھوڑی گارڈن میں سرکاری دفاتر قائم کردیے گئے ہیں ، فاضل بینچ نے اس درخواست پر مدعا علیہان ہاشم رضا زیدی ، محمد حسین سید اور عاصم خان کے جمعہ کے لیے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے۔