بینظیر میڈیکل یونیورسٹی میں شام کا غیر قانونی میڈیکل کالج قائم

100طالب علموں کو داخلے بھی دیدیے گئے،کالج کو فوراً بندکرایاجائے وزیراعلیٰ سندھ کی محکمہ صحت کوہدایت


Staff Reporter July 23, 2013
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل شام کے اوقات میں دیے جانیوالے داخلوں کی رجسٹریشن نہیں کرے گی اور نہ ہی یہ طالب علم پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈکیے جاسکیں گے۔

صوبائی محکمہ صحت نے شہید بے نظیر بھٹومیڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں (ایوننگ کلاسوں) شام کے اوقات میں غیر قانونی میڈیکل کالج قائم کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کالج کوفوری بند کرنے کاحکم دیدیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس میں طالب علموں کے غیر قانونی داخلے کانوٹس لیتے ہوئے کالج کو بند کرنے کی ہدایت کی ہے، تفصیلات کے مطابق شہید بے نظیر بھٹومیڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کی حدود میں شام کے اوقات میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی اجازت اور محکمہ صحت کے علم میں لائے بغیرپہلی بار ایم بی بی ایس میں100 طالب علموں کو داخلے دیدیے اوراس غیر قانونی کالج میں 16جولائی سے شام میں ایم بی بی ایس کی کلاسوں کا آغاز بھی کردیاہے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی محکمہ صحت کے سیکریٹری کو ایک مکتوب لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبے سندھ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بے نظیر بھٹومیڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں شام کا میڈیکل کالج قائم کرلیا گیا ہے جو سراسرغیر قانونی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں شام کے اوقات میں میڈیکل کالج قائم نہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاڑکانہ میں شام کے اوقات میں میڈیکل کالج قائم کرلیا اوراس غیر قانونی میڈیکل کالج میں100طالب علموں کو داخلے بھی دیدیے گئے جو غیر قانونی ہے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل شام کے اوقات میں دیے جانیوالے داخلوں کی رجسٹریشن نہیں کرے گی اور نہ ہی یہ طالب علم پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈکیے جاسکیں گے۔



پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اس مکتوب کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت دی کہ شام کے اوقات میں قائم کیے جانے والے اس میڈیکل کالج کی انتظامیہ سے فوری جواب طلب کیا جائے اور کالج کوفوری بندکرانے کیلیے اقدامات کیے جائیں جس پرصوبائی محکمہ صحت نے 22 جولائی پیرکوشہید بے نظیر بھٹومیڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلراور رجسٹرارکوایک مکتوب لکھا ہے جس میںکہا گیا ہے کہ مذکورہ یونیورسٹی میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اورصوبائی محکمہ صحت کی اجازت کے بغیر شام کے اوقات میں قائم کیاجانے والا میڈیکل کالج غیر قانونی ہے۔

لہٰذا کالج کو فوری بندکیاجائے بصورت دیگرکالج انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل لائی جائیگی، واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے16جولائی سے یونیورسٹی میں ایوننگ میں ایم بی بی ایس کی کلاسیں شروع کردیں ہیں جس میں مجموعی طورپر 100 سیٹوں پر داخلے دیے گئے ان میں 75سیٹیں اوپن میرٹ جبکہ25سیٹوں کو سیلف فنانس پر داخلے دیئے گئے ہیں سیلف فنانس کی سالانہ فیس 6لاکھ روپے مقررکی گئی ہے۔