اسپتالوں میں پلیٹ لیٹس کی عدم فراہمی ڈنگی وائرس نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی

ڈنگی سے جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہوگئی،شہر میں ڈنگی وائرس شدت اختیار کرنے لگا


Staff Reporter July 23, 2013
مریضوں کے اہل خانہ نجی لیبارٹریوں سے پلیٹ لیٹ مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ فوٹو: فائل

شہرمیں ڈنگی وائرس سے ایک اور مریض جاں بحق ہوگیا،مزید 13 مریضوں میں ڈنگی وائرس تصدیق کی گئی ہے۔

جس کے بعد مریضوں کی تعداد491 ہوگئی، ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق نیوکراچی کا رہائشی22 سالہ نعمان ڈنگی وائرس کا شکار تھا اور مقامی اسپتال میں زیر علاج تھا تاہم گزشتہ شب دوران علاج چل بسا جس کے بعد ڈنگی وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے، ادھر ماہرین طب نے کہا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں ڈنگی وائرس کا سیزن شروع ہوگیا ہے، کراچی میں ڈنگی وائرس جون سے شروع ہوتا ہے اور جولائی سے یہ وائرس شدت اختیار کرنے لگتا ہے اور اگست سے دسمبر تک شدت اختیار کرتا ہے۔

ایک مادہ مچھر ایک ماہ کی زندگی میں ایک ہزارانڈے دیتی ہے، انڈوں سے بارش کے موسم میں افزائش نسل شروع ہوتی ہے،ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، قے کا ہونا شامل ہوتا ہے تاہم اس میں شدت آنے کے بعد متاثرہ مریض کے جسم کے پلیٹ لیٹ انتہائی کم ہوجاتے ہیں،ڈاکٹر طاہر ایس شمسی نے بتایا ہے کہ مچھرایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔



لہٰذا عوام گھروں، گلی، محلوں کی صفائی رکھیں اورگھروں کے اطراف پانی جمع نہ ہونے دیں،گھروں میں جرا ثیم کش اسپرے روزانہ کیا جائے اورگھروں میں جمع ہونے والے پانی کو فوری صاف کیاجائے۔

واضح رہے کہ سرکاری سطح پر محکمہ صحت کے تحت متاثرہ مریضوں کو پلیٹ لیٹ کی فراہمی کا باقاعدہ انتظام نہیں کیا جاسکا ہے، مریضوں کے اہل خانہ نجی لیبارٹریوں سے پلیٹ لیٹ مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، ذرائع کے مطابق بعض سرکاری اسپتالوں میں ڈنگی وارڈ بھی قائم نہیں کیے جاسکے ہیں جس کے سبب مریض نجی اسپتالوں میں مہنگا علاج کرانے پر مجبور ہیں جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق عوام میں اب تک مچھر دانیاں تقسیم نہیں کی جاسکی ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ڈنگی اور دیگر وبائی بیماریوں سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔