اردو یونیورسٹی نے جعلی دستاویزات پر32 طلبا کے داخلے منسوخ کر دیے

داخلہ لینے والے 32 طلبا کی مارک شیٹس متعلقہ بورڈز نے جعلی قرار دیدیں


Staff Reporter July 25, 2013
یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر فہیم الدین کے اعلامیے کے مطابق تعلیمی سال 2013 میں بی ایس میں داخلہ لینے والے32 طلبا کی مارکس شیٹس جعلی پائی گئیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے رواں تعلیمی سال مختلف شعبوں اور بی ایس میں جعلی مارک شیٹس کی بنیاد پر داخلے لینے والے 32 طلبہ وطالبات کے داخلے منسوخ کردیے ہیں۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر فہیم الدین کے اعلامیے کے مطابق تعلیمی سال 2013 میں بی ایس میں داخلہ لینے والے32 طلبا کی مارکس شیٹس جعلی پائی گئیں جس کی وجہ سے ان کے داخلے منسوخ کیے گئے ہیں ان مارکس شیٹس کی تصدیق متعلقہ بورڈز سے کرائی گئی ہے جبکہ مزید کسی طالب علم کی مارک شیٹ جعلی ثابت ہوئی تو اس کا داخلہ بھی منسوخ کردیا جائے گا۔



داخلہ منسوخ کیے جانے والے طلبا میں شعبہ نباتیات کی یسٰری شکیل، کیمیا کی سمعیہ سلیم،ماحولیاتی سائنس کی عروسہ قیصر، طیبہ نور عالم، عاشق حسین، عاطف احمد، اسدللہ،جغرافیہ کے عدیل نفیس، ایم طیب،حنا ایاز خان، ارضیات کے اظہار عالم،ریاضیاتی علوم کی فرح بتول، خرد حیاتیات سے زاہد، طبیعیات سے حافظ منصور، فہد شمس، اظہار احمد، احسن بیگ، ایم فیاض حسین، علی صدیقی، حیوانیات سے حنا بی بی، علی محمد، کرن کمال، زبیر علی شاہ، شماریات سے اویس احمد، ایم اسحاق مزاری، کمپیوٹر سائنس سے ثاقب شاہ، ایم شہروز، خورشید علی، ایم احسن نواز اور بی بی اے کے محبت شاہ، محمد دانیال اور وقارالملک شامل ہیں۔