کے ای ایس سی واٹر بورڈ تنازع پانی کی عدم فراہمی سے شہریوں کی زندگی اجیرن

آج شہریوں کو 6 کروڑ 70 لاکھ گیلن پانی کی کمی کا سامنا رہے گا(واٹربورڈ)


Staff Reporter August 24, 2012
آج شہریوں کو 6 کروڑ 70 لاکھ گیلن پانی کی کمی کا سامنا رہے گا(واٹربورڈ)پمپنگ اسٹیشنز کی خستہ حال کیبلز کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوجاتا ہے،کے ای ایس سی۔ فوٹو: فائل

کے ای ایس سی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مابین تنازع ساس بہو کے دیرینہ اور روایتی جھگڑے میں تبدیل ہوگیا ، قلت آب کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی،دونوں ادارے طویل عرصے سے شہر میں پانی کے بحران کی ذمے داری ایک دوسرے پر عائد کرکے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ حکومتی مشینری اس سارے عمل میں عضو معطل دکھائی دیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کراچی کے کروڑوں شہریوں کو اہم ترین شہری اداروںکی انتظامیہ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔

اس صورتحال پر عوام نے بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دو اداروں کی لڑائی نے ہماری زندگی کو اجیرن بنادیا ، شہریوں نے واٹربورڈ سے استفسار کیا ہے کہ اگر اس کے الزامات درست مان لیے جائیں تو پھر واٹربورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر اس بات کا جواب دیں کہ انھوں نے فراہمی آب کیلیے متبادل انتظامات کیا کیے ہیں اور پمپنگ اسٹیشنوں میں موجود جنریٹرز کا استعمال کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔

حال ہی میں میکنیکل کے شعبے میں خرچ کیے جانے والے کروڑوں روپے کس کس مد میں خرچ ہوئے ہیں واٹر بورڈ کے ترجمان کے مطابق کراچی کو پانی فراہمی کرنے والے پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کے بریک ڈائون اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے باعث آج شہریوں کو 6 کروڑ 70 لاکھ گیلن پانی کی کمی کا سامنا رہے گا، دھابے جی پمپنگ اسٹیشن پر جمعرات کی دوپہر بجلی کے 20 منٹ کے بریک ڈائون کی وجہ سے 3 کروڑ 50 لاکھ گیلن پانی کی سپلائی متاثر ہوئی تاہم دھابے جی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی بحالی کے بعد پانی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہی اور یہاں نصب پمپ اپنی استطاعت کے مطابق کام کرتے رہے اور گھارو پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈائون کے نتیجے میں پھٹ جانے والی 36 انچ قطر کی لائن کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے۔

یہاں 1943ء سے زیر استعمال کاسٹ آئرن کی پائپ لائن کو تبدیل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے اس کی وجہ کاسٹ آئرن پائپ کی عدم دستیابی ہے واٹر بورڈ کا ترجمان واٹر بورڈ نے توقع ظاہر کی ہے کے متاثرہ لائن کی تبدیلی کا عمل جمعرات کی رات مکمل ہوجائے گا گھارو پر پائپ لائن کی مرمت کے جاری کام کی وجہ سے شہریوں کو آئندہ 24 گھنٹے کے دوران 1 کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، کراچی کے شہریوں کو بجلی کے بریک ڈائون اور واٹر بورڈ کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث مجموعی طور پر آج 4 کروڑ 70 لاکھ گیلن پانی کی کمی واقع ہوگی۔

دریں اثنا حب ڈیم جہاں سے واپڈا واٹر بورڈ کو یومیہ 10 کروڑ گیلن پانی دینے کا پابند ہے وہاں غیر اعلانیہ طور پر یومیہ 2 کروڑ گیلن پانی کی کٹوتی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ضلع غربی کے علاقوں اورنگی ٹائون، بلدیہ ٹائون اور کیماڑی میں قلت آب کی شکایات پیدا ہورہی ہیں ، پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی کے بریک ڈائون کے نتیجے میں ہو نے والی خرابیوں کے با عث ملیر ، لانڈھی ، شاہ فیصل کا لو نی ، اختر کا لونی ، رزاق آباد جزوی طور پر متاثر ہو نگے جبکہ پی ای سی ایچ ایس کے کچھ علاقوں کو بھی پانی کی فراہمی میں تعطل رہے گا۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے واٹر بورڈ انتظامیہ کی جانب سے بجلی کے بریک ڈائون کی وجہ سے پانی کا بحران پیدا ہونے کے دعوے کو پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز مکمل طور پر لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ پانی کے پمپنگ اسٹیشنز کی اندرونی حدود میں نصب بجلی کی ناقص اور خستہ حال کیبلز کی وجہ سے پمپنگ اسٹیشنز میں بار بار بجلی کی فراہمی کا تعطل پیدا ہوجاتا ہے، واٹر بورڈ کی انتظامیہ کی جانب سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے معاملات کی اعلیٰ سطح پر چھان بین اور تحقیقات کے مطالبے کی کے ای ایس سی نے حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے یقیناً اس حقیقت کی توثیق ہوجائے گی کہ کے ای ایس سی کی جانب سے واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز پر کسی قسم کی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی ہے۔

ترجمان کے مطابق واٹربورڈ کے ذمے17 ارب روپے کے واجبات اور بجلی کے ماہانہ بلوں کی مد میں ماہانہ 350-400 ملین روپے واجب الادا ہیں جو مستقل طور پر ادا نہیں کیے جارہے ہیں، کے ای ایس سی نے کیبلز کی مرمت کے لیے ماضی میں بار بار پیشکش کی تھی مگر واٹر بورڈ نے اس پر کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا، جو مسائل کے حل کے ضمن میں ان کی غیرسنجیدگی اورعدم دلچسپی کو ظاہرکرتا ہے۔