ڈنگی سے مزید ایک مریض ہلاک 508 افراد متاثر ہو گئے

ڈنگی وائرس کے علاج کے دوران جانبر نہ ہوسکا،مزید8 افراد میں ڈنگی وائرس کی تصدیق ہوگئی


Staff Reporter July 27, 2013
ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق کراچی میں مزید 8 مریضوں میں ڈنگی وائرس تصدیق کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

شہر میں ڈنگی وائرس نے ایک اورمریض کی جان لے لی جس کے بعدجاں بحق ہونے والوںکی تعداد6 ہوگئی۔

جبکہ مزید 8 افراد میں ڈنگی وائرس کی تصدیق کی گئی ہے،گلشن اقبال کا رہائشی68سالہ امین گزشتہ روز ڈنگی وائرس میں مبتلا ہوکرموت کا شکار ہوگیا، امین کو17جولائی کو ایک نجی اسپتال میں داخل کیاگیا تھا جہاں ڈنگی وائرس کی تصدیق کے بعد اس کا علاج جاری تھا کہ وہ دوران علاج چل بسا، ادھر ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق کراچی میں مزید 8 مریضوں میں ڈنگی وائرس تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد مریضوں کی تعداد 508 ہوگئی، ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق امسال ڈنگی وائرس سے جاں بحق ہونے والوںکی تعداد 6 ہوگئی۔

ماہرین طب نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں ڈنگی وائرس کا سیزن شروع ہوگیا ہے، کراچی میں ڈنگی وائرس جون سے شروع ہوتا ہے مچھرایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر بھی منتقل ہوتا ہے، ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، قے کا ہونا شامل ہے تاہم شدت آنے کے بعد متاثرہ مریض کے جسم کے پلیٹ لیٹ انتہائی کم ہوجاتے ہیں،نارمل انسان میں خون جمانے والے اجزا پلیٹ لیٹ کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے4 لاکھ ہوتی ہے۔



لیکن ڈنگی وائرس کا شکارہونے والے مریضوں میں پلیٹ لیٹ کی تعداد کم ہوکر30 ہزار رہ جاتی ہے ایسی صورت میں مریض کی زندگی بچانے کیلیے فوری پلیٹ لیٹ کی ضرورت ہوتی ہے،ڈنگی وائرس کے شکار افراد غیر ضروری اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں اس سے مریضوں کے جسم میں پلیٹ لیٹ کی تعداد مزید کم ہوجاتی ہے۔

مسلسل تین دن بخار رہنے کی صورت میں خون کا ٹیسٹ سی بی سی کراناچاہیے، بچوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق بھی سی بی سی ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے،پلیٹ لیٹ کی منتقلی غریب مریضوں کی دسترس سے باہر ہے یہ وائرس گزشتہ 6 سال سے تواترکے ساتھ رپورٹ ہورہا ہے،ماہرامراض خون ڈاکٹر طاہر ایس شمسی نے بتایا ہے کہ عوام گھروں،گلی،محلوں کی صفائی رکھیں اورگھروں کے اطراف پانی جمع نہ ہونے دیںکیونکہ جمع ہونے والے پانی میں مچھروں کی افزائش نسل تیزی سے ہوتی ہے، گھروں میں جرا ثیم کش اسپرے روزانہ کی بنیاد پرکیاجائے جبکہ گھروں کی چھتوں پرکھلے ہوئے پانی کے ٹینکوں کو بھی ڈھانپ کر رکھا جائے، ڈنگی بخارکی ابتدائی علامات میں ہڈی و جوڑوں میں درد ہونا، متلی اور الٹی آنا، سردردجلد پر دھبے جوڑوں اور پٹھوں میں درد سمیت دیگر علامات شامل ہیں، ڈنگی وائرس کی شدت پر جسم میں پلیٹ لیٹ کم ہوجاتے ہیں اورخون جمانے والے اجزا کام چھوڑ دیتے ہیں جس سے جسم سے خون جاری ہونے لگتا ہے۔