ہاکی ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت مشکوک

ایونٹ کے لیے منتظمین کو نام بھجوانے میں غیر ضروری تاخیر،ملک میں متوازی اولمپک ایسوسی ایشنز کا تنازع کھیلوں کے۔۔


Sports Reporter July 27, 2013
ایونٹ کے لیے منتظمین کو نام بھجوانے میں غیر ضروری تاخیر،ملک میں متوازی اولمپک ایسوسی ایشنز کا تنازع کھیلوں کے مستقبل سے کھیلنے لگا۔ فوٹو: فائل

متوازی اولمپک ایسوسی ایشنز کا تنازع پاکستانی کھیلوں کے مستقبل سے کھیلنے لگا، نام بھجوانے میں غیر ضروری تاخیر کے سبب قومی ہاکی ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت مشکوک ہوگئی۔

صدر پی او اے عارف حسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیڈ لائن گزر چکی تاہم اگر 1،2 روز میں پی ایچ ایف شرکت کی تصدیق کر دے توشرکت ممکن بنانے کی کوشش کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں اگلے ماہ ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (عارف حسن گروپ) کو اپنے دستے کی فہرست بھجوانے کی ہدایت دی تھی، اس نے ہاکی سمیت 7 کھیلوں کی فیڈریشنز کو نام دینے کیلیے خطوط لکھے، عبوری کمیٹی اور اس کے تحت تشکیل پانے والے اکرم ساہی گروپ کی پی او اے کا ساتھ دینے والی پی ایچ ایف نے21 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود نام بھجوانے سے گریز کیا،اس کا اصرار رہا کہ وہ پہلے پاکستان اسپورٹس بورڈ سے این او سی لے گی۔

عارف حسن گروپ کی پی او اے نے قومی کھیل کے سوا موصول ہونے والے شوٹنگ، سوئمنگ، ویٹ لفٹنگ ، ریسلنگ، رگبی اور باکسنگ ٹیموں کے نام ارسال کر دیے، حکام کے مطابق اب ہاکی ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت مشکوک ہے کیونکہ نام بھیجنے کی ڈیڈ لائن گذر گئی۔ پی ایچ ایف کے سیکریٹری آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ ہم نے نام دینے کے سلسلے میں حکومتی اجازت کیلیے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو خط لکھا تھا مگر تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔

دوسری طرف پی ایچ ایف کے صدر قاسم ضیا نے بتایا کہ قومی ٹیم کے غیر ملکی دورے کیلیے پی ایس بی سے این او سی لینا پڑتا ہے کیونکہ وہی اخراجات برداشت کرتا ہے، ہم نے اب پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ موجودہ صورتحال میں فیڈریشن کیا کرے، پی ایچ ایف کا الحاق پی ایس بی سے ہے لہذٰا وہ جو کہے گا فیڈریشن وہی کرے گی۔



پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ر) عارف حسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیڈ لائن گزر چکی تاہم اگر 1،2 روز میں پی ایچ ایف شرکت کی تصدیق کر دے تو پی او اے کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین سے بات کر کے ہاکی ٹیم کی شرکت ممکن بنانے کی کوشش کرے گی۔ یاد رہے کہ موجودہ صورتحال میں کھیلوں کی متعدد فیڈریشنز نے غیر ملکی دوروں کے سلسلے میں پاکستان اسپورٹس بورڈ سے اجازت اور مطلوبہ فنڈز نہ ملنے کی شکایت کی جو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم شدہ پی او اے کے ساتھ ہے۔

آئی او سی نے حکومتی مداخلت کا سخت نوٹس لیا ہوا ہے، اس ضمن میں عالمی باسکٹ بال فیڈریشن نے پاکستانی رکنیت معطل کر دی، بیڈمنٹن کی رکنیت بھی ملک میں 2 فیڈریشنز کے قیام کے سبب معطل ہے۔ اسپورٹس حلقوں نے ان حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں ہاکی ٹیم کے شرکت نہ کرنے کا ذمہ دار حکومت یا پی او اے کے متوازی گروپس میں سے کون ہے، اس کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان ایک اہم ایونٹ میں شرکت سے محروم رہے گا، ایف آئی ایچ حکام انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو تسلیم کرتے ہیں، عارف حسن گروپ کا بھی دعویٰ ہے کہ ان کا انتخاب آئی اوسی چارٹر کے مطابق درست ہے، ہاکی فیڈریشن نے نئے گروپ کو سپورٹ کرکے خود اپنے لیے مسائل پیدا کیے۔