بی جے پی کے بعد کانگریس بھی راضی بھارت میں نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کی منظوری

کانگریس نے قرارداد میں مرکزی حکومت سے تلنگانہ صوبے کے قیام کی درخواست کردی، پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد پیشرفت ہوگی۔۔۔


AFP July 31, 2013
آندھرا پردیش کو تقسیم کرکے بنایا جانیوالا 29 واں صوبہ پسماندہ قبائلی علاقے پر مشتمل ہوگا جسے ماضی کی صوبائی حکومتیں نظرانداز کرتی رہیں، کانگریس کاانتخابی جوا ہے، ماہرین فوٹو: اے ایف پی

بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس نے ایک اور نئے صوبے کی منظوری دے دی ہے، خدشہ ہے کہ یہ فیصلہ علاقے میں تشددکو ہوا دے سکتا جس کی زدمیں آئی ٹی حب حیدرآباد بھی آئے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس کی سربراہ سونیاگاندھی اور دیگر سینئر رہنماؤں نے آندھرا پردیش کو تقسیم کرکے تلنگانہ صوبے کادیرینہ مطالبہ ماننے کا فیصلہ کرلیاہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کے اجلاس میں ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں مرکزی حکومت سے تلنگانہ صوبے کے قیام کے لیے ضروری اقدام کی درخواست کی گئی۔ پارٹی ترجمان اجے میکن کے مطابق مقامی آبادی الگ صوبے کا مطالبہ 1956 سے کررہی ہے۔ تاہم اس قراردادکے بعد ابھی پارلیمنٹ کی منظوری بھی باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس صوبے کے قیام کو اپوزیشن کی مرکزی جماعت بی جے پی کی تائیدبھی حاصل ہے۔



بھارت کا یہ 29واں صوبہ پسماندہ قبائلی علاقے پر مشتمل ہوگا جسے آندھراپردیش کی ماضی کی حکومتیں مسلسل نظرانداز کرتی رہیں۔ صوبے کے خوشحال علاقے قراردادکے مخالف ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ صوبے کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپوں کا ایک طویل سلسلہ رہاہے جو 2009 سے جاری ہے۔ اسی وجہ سے حیدرآباد پر وزارت داخلہ نے توجہ بڑھادی ہے۔ یہ شہر ٹیکنالوجی اداروں کا حب ہے اور فیس بک اور گوگل جیسے معروف ادارے یہاں موجودہیں۔ حکومت نے لااینڈآرڈرکی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے آندھراپردیش میں 1000 اضافی پیراملٹری دستے تعینات کیے ہیں۔

2009 میں اس وقت کے وزیرداخلہ پی چدم برم کوصوبے کے حق میں تشددآمیز مظاہروں اور بھوک ہڑتالی مہم کے بعد حامیوں سے ان کے مطالبات ماننے کاوعدہ کرناپڑا تھا۔ یادرہے کہ گورکھا لینڈ کینسل پرست نیپالی بھی طویل عرصے سے تشددآمیز جدوجہد میں مصروف ہیں۔ کانگریس اپنی تیسری مدت کے لیے آندھراپردیش سے بہت توقعات رکھتی ہے۔ ماہرین اس صوبے کے قیام کو کانگریس کا جوا قراردے رہے ہیں جو اسے ایک اہم صوبے میں آئندہ انتخابات میں نمایاں حیثیت دلاسکتاہے۔ بھارت میں آخری بار 2000 میں 3 صوبے بنائے گئے تھے۔