سندھ ہائیکورٹ من پسند افسران کیلیے آئی جی کا آرڈر روک دیا گیا

عدالتی حکم پر تنزلی پانے والوں کو عمر کی حد میں لچک اور کورسز سے استثنیٰ دیا گیا تھا


Staff Reporter July 31, 2013
متاثر ہونے والے کی درخواست پر عدالت کا حکم امتناع، ترقیوں کی وضاحت دینے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

من پسند افسران پولیس افسران کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت تنزلی سے بچانے کیلیے آئی جی سندھ کے اسٹینڈنگ آرڈرپر عمل درآمدروک دیا گیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے چیف سیکریٹری،محکمہ داخلہ، سیکریٹری سروسز اورآئی جی سندھ کو 6اگست کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سلسلے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پیر کو جسٹس منیب اختر پر مشتمل سنگل بینچ نے سی آئی ڈی کے سب انسپکٹرچوہدری عارف حسین کے دعوے کی سماعت کی جوکہ نعیم اقبال ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کیا گیا ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ ترقیاں منسوخ کرنے کا حکم دیا تھاجس پر محکمہ پولیس میں بھی بڑی تعداد میں افسران کی تنزلی ہوئی اور درخواست گزار سمیت دیگر سینئر افسران کی ترقیوں کے امکانات روشن ہوئے تھے مگر آئی جی سندھ اور محکمہ پولیس نے من پسند افسران کو بچانے کیلیے سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔آئی جی کی ہدایت پر ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ امین یوسف زئی نے3اپریل2013کو ایک اسٹینڈنگ آرڈر جاری کیا ہے جس کے تحت من پسند افسران کوعمر کی حد میں لچک اورترقی کے لیے لازمی کورسز سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔



مدعی کے مطابق اس اسٹینڈنگ آرڈر کا اطلاق صرف سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہونیوالے افسران پر ہوگا ۔ مدعی کے مطابق آئی جی سندھ کے اس حکم کی وجہ سے وہ اہلکار جو ترقی کے لیے ان کورسز میں شریک ہوئے وہ ترقی سے محروم ہوجائینگے ، اس لیے عدالت عالیہ قراردے کہ آئی جی سندھ کو اس طرح کے احکام جاری کرنے کا اختیار نہیں ۔دعوے میں استدعا کی گئی ہے کہ مذکورہ اسٹینڈنگ آرڈر کوغیرقانونی قراردیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف کسی افسر کوترقی نہ دی جائے۔ عدالت نے پولیس کی ڈیپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کرائیں،اگر کسی کی ترقی ناگزیر ہوتو اس کی ترقی سے متعلق تفصیلی وضاحت کی جائے اور وجوہات سے بھی آگاہ کیاجائے اور یہ کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہو۔درخواست کی آئندہ سماعت6 اگست کو ہوگی۔