اسٹیٹ بینک نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت روکنے میں ناکام

کرنسی نوٹوں کی بلیک میں کمرشل بینکوں کا عملہ ملوث ہے، 99 فیصد بینکوں کی شاخوں سے عوام اورکھاتے داروں کو کرنسی نوٹ۔۔۔


Business Reporter August 01, 2013
بولٹن مارکیٹ کی فٹ پاتھوں پرکھلے عام نوٹوں کی فروخت سے اسٹیٹ بینک کے تمام دعوے اور مانیٹرنگ کے نظام کی ناکامی اور غیر فعالیت نمایاں ہوگئی۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کی بلیک میں فروخت روکنے کے تمام تر دعوے ایک بار پھر دھرے رہ گئے۔

نوٹوں کی بلیک میں فروخت میں کمرشل بینکوں کا عملہ ملوث ہے جو اسٹیٹ بینک کی جانب سے عوام کے لیے فراہم کردہ نئے کرنسی نوٹ مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں، شہرکے 99 فیصد بینکوں کی شاخوں سے عوام اورکھاتے داروں کو کرنسی نوٹ فراہم نہیں کیے جارہے ہیں، بینکوں کا عملہ کھاتے دار اورعوام کو یہ کہہ کر ٹال رہا ہے کہ انھیں ہیڈ آفس یا اسٹیٹ بینک سے نئے کرنسی نوٹ جاری نہیں کیے گئے۔

عوام کے مسلسل اصرار پر اگلے روز آنے کا کہا جاتا ہے اور دوسرے روز رجوع کرنے پر کہا جاتا ہے کہ محدود تعداد میں آنے والے کرنسی نوٹوں کے پیکٹ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر تقسیم کردیے گئے ہیں ، کھاتے داروں کے مطابق بینکوں کا عملہ نئے کرنسی نوٹ کھاتے داروں کو فراہم کرنے کے بجائے بلیک مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں، عید کیلیے کرنسی نوٹوں کی فروخت کا کاروبار نیا نہیں ہے۔



ہر سال رمضان میں نئے کرنسی نوٹوں کی بلیک میں فروخت کی دکانیں سجا دی جاتی ہیں ، یہ دکانیں بینکوں کے عملے کی معاونت اور سرپرستی میں چل رہی ہیں جہاں 10 اور 20 کے نوٹوں کے پیکٹ پر 150 سے 200 روپے جبکہ 50 اور 100 روپے مالیت کے کرنسی نوٹوں کے پیکٹ پر 250 سے 300 روپے تک زائد وصول کیے جارہے ہیں، بولٹن مارکیٹ میں نئے کرنسی نوٹ اسٹیٹ بینک کے دفتر کے عین برابر اور مین گیٹ کے سامنے فروخت کیے جارہے ہیں ، کرنسی نوٹوں کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بینکوں کا عملہ بھی نئے کرنسی نوٹوں کی فراہمی پر اپنا کمیشن وصول کررہا ہے اور بہت سے بینک ملازمین بولٹن مارکیٹ آکر نئے نوٹ فروخت کررہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ بینکوں کا عملہ اپنی پوری تنخواہ نئے کرنسی نوٹوںکی شکل میں وصول کرکے بازاروں میں فروخت کررہا ہے۔

ادھر اسٹیٹ بینک کے دعوے کے مطابق بینکوں کو فراہم کیے جانے والے نئے کرنسی نوٹوں کے سیریل نمبر نوٹ کیے جاتے ہیں اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ ٹیمیں بازاروں سے عام گاہک بن کر کرنسی نوٹ خریدتی ہیں اور سیریل نمبر کے ذریعے نوٹ بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے والے بینکوں کے خلاف جرمانے عائد کیے جاتے ہیں تاہم بولٹن مارکیٹ کی فٹ پاتھوں پر کھلے عام کرنسی نوٹوں کی فروخت سے اسٹیٹ بینک کے تمام دعوے اور مانیٹرنگ کا نظام ناکام اور غیرفعال نظر آرہا ہے، بینک کھاتے دار اور عوام نئے کرنسی نوٹوں کے لیے بلیک مارکیٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔