ڈاکٹر عمیر السلام پر قاتلانہ حملے کیخلاف ڈاکٹرز کا احتجاج

حکومت اسپتالوں میں پولیس اور رینجرزکی تعیناتی کو یقینی بنائے، ڈاکٹرز


Staff Reporter August 25, 2012
ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملے پر تشدد کے خلاف سول اسپتال میں ڈاکٹرزاحتجاج کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

ڈائو یونیورسٹی کے ڈاکٹر عمیرالسلام پر تشدد اور قاتلانہ حملے کیخلاف جمعہ کو ڈائو یونیورسٹی اور سول اسپتال میں شدید احتجاج اوراسپتال کی او پی ڈی کا بائیکاٹ بھی کیا گیا، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ آج سے مطالبات کی منظوری تک اسپتال میں احتجاج کے طور پر کام نہیں کیا جائیگا صرف ایمرجنسی میں آنیوالے مریضوںکو طبی امداد فراہم کی جائیگی، ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹرز ہفتہ کو پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کریںگے، حکومت سول اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں میں پولیس اور رینجرزکی تعیناتی کو یقینی بنائے، ڈاکٹروںکو تحفظ فراہم کرنے کا بل جلد منظورکرایا جائے، ڈاؤ یونیورسٹی نے مطالبہ کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائیگا اور ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

بعدازاں ڈاؤ یونیورسٹی میںمذمتی اجتماع بھی منعقدکیاگیا جس میں سنیئر فیکلٹی ارکان، پروفیسرز، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور طلبہ و طالبات سمیت پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کی صدر، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ پیرمیڈیکل اسٹاف کے ارکان نے شرکت کی، مذمتی اجتماع میں ڈائو یونیورسٹی کے ڈاکٹر عمیرالسلام پر قاتلانہ حملے کے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیاگیا اور یہ عزم کیاگیا کہ ملزمان کی گرفتاری تک اسپتال میں احتجاج جاری رہے گا، مذمتی اجتماع سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید خان، پرووائس چانسلر پروفیسر عمرفاروق، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی، ڈاکٹر اسماعیل میمن سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہاکہ کراچی سمیت ملک بھر میں ڈاکٹروں پر تشددکے واقعات میں تواتر سے اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل عملہ غیر محفوظ ہوگیا ہے اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹرز اب اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، پروفیسر مسعود حمیدکا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز غیر محفوظ ماحول میںکام کرنے پر مجبور ہیں، ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف پر تشدد کو فوری نہ روکا گیا تو ڈاکٹر ملک چھوڑ نے پرمجبور ہوجائیں گے جس سے غریب مریضوں اور ملک کا نقصان ہوگا، انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیں، انھوں نے ڈاکٹروں کے تحفظ کیلیے وزیراعلیٰ اور گورنرسندھ سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹرعمر فاروق پرووائس چانسلر ڈائو یونیورسٹی نے کہا کہ ڈاکٹرز اس غیر تحفظ اور ڈرے ہوئے ماحول میںکام نہیںکرسکتے لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت سول اسپتال میں سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرے اور اسپتالوں میں پولیس و رینجرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ ڈاکٹروں کو بہت عرصے سے تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، دوران ڈیوٹی ان پر تشدد کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن ان واقعات کیخلاف کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہاکہ ان واقعات کے باعث ڈاکٹروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور ڈاکٹرز اپنے کام کے دوران بھی شدید ذہنی دبائو کا شکار رہتے ہیں، انھوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کا بل جلد منظورکرایا جائے، اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، واضح رہے کہ گذشتہ رات یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سینئر ڈاکٹر عمیر السلام کو نامعلوم ملزمان نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی، اس واقعے کیخلاف گذشتہ روز ڈاؤیونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔