بھارتی سازشیں اور خطے کا امن

خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔


Editorial March 04, 2019
خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ فوٹو : فائل

بھارتی فضائی جارحیت سے جنم لینے والی جنگی صورت حال کے بعد خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی پاکستانی کوششوں کے باوجود تناؤ اور جنگی ماحول کی صورت حال بدستور قائم ہے۔

پاکستان نے حملے کے لیے آنے والے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتاری کے بعد بلامشروط بھارت کے حوالے کر کے جو خیرسگالی کا پیغام دیا، بھارت کی جانب سے اس کا مثبت جواب دینے کے بجائے جو منفی رویہ اپنایا گیا اس کی ایک جھلک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران عیاں ہو جاتی ہے جس میں انھوں نے بھارتی جارحیت میں ناکامی پر شرمندہ ہونے کے بجائے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ اگر بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو اسے پاکستان کے ہاتھوں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور نتائج کچھ اور ہوتے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے تسلیم کرلیا کہ وہ جس سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ حقیقت میں محض سرحدی خلاف ورزی کی کارروائی تک ہی محدود ہے۔

ادھر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے46ویں اجلاس نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر قراردینے اور پاکستان میں بھارتی دراندازی پر اظہار تشویش کی قرارداد منظور کرتے ہوئے بھارت پر زور دیاکہ وہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور تمام تصفیہ طلب مسائل کا پرامن طریقے سے حل نکالے۔

او آئی سی اجلاس میں کشمیری عوام کی حمایت پر مبنی قرارداد منظور کی گئی جس میں کشمیری عوام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر بنیادی تنازع ہے، قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کی مذمت کی گئی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ عالمی برادری سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بمباری کے نام پر نقصان پہنچانے کے نام نہاد دعوے اور پاکستان کی جانب سے حملہ آور بھارتی طیارے کو مار گرانے کے بعد یہ خدشات شدت اختیار کر گئے کہ کسی بھی وقت پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے لیکن پاکستانی حکومت نے تدبر اور دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کسی بھی صورت خطے میں جنگ کا خواہاں نہیں اور باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اس کا بھرپور جواب دے گا۔

خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہاں تک کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں او آئی سی نے پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ریاستی دہشت گردی قرار دے کر پاکستانی مؤقف کی حمایت کی اور پاکستان کو ایشیا میں انسانی حقوق کمیشن کا مستقل رکن بھی منتخب کر لیا جو انسانی حقوق کے قوانین، اصولوں اور پالیسیوں پر عملدرآمد میں پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اس کانفرنس کے افتتاحی سیشن کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ دیگر سیشنز میں دفترخارجہ کے حکام شریک ہوئے۔

بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا اور وہ اپنی جارحانہ کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ لائن آف کنٹرول نکیال سیکٹر میں ہفتے کو بھارتی فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوانوں سمیت چار افراد شہید ہو گئے جب کہ اس جھڑپ میں 8 بھارتی فوجی مارے گئے اور کئی چوکیاں تباہ ہوگئیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق شہید ہونے والوں میں حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی گولہ باری کے جواب میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنا کر بھرپور جواب دیا جب کہ پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی بھی الرٹ ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایم ایس ڈسٹرکٹ اسپتال راجوڑی نے اسپتال میں بھارتی فوج کے 8 جوانوں کی لاشیں اور 32 زخمی لائے جانے کی تصدیق کی ہے جو کنٹرول لائن پر جھڑپ میں ہلاک و زخمی ہوئے۔

ایم ایس راجیو تریپاٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں بھارتی فوج کا ایک کیپٹن اور پیراملٹری فورسزکے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ادھر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے تین اہم رہنماؤں کی آڈیو ٹیپ وائرل ہو گئی جس میں الیکشن جیتنے کے لیے پلواما حملہ کرانے کا اعتراف کیا گیا ہے، جس کے ردعمل میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سچ پر زیادہ عرصے تک پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوی ڈانڈیا نامی بھارتی نژاد امریکی شہری سابق بھارتی پائلٹ کے بیٹے ہیں، انھوں نے مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن جیتنے کی ضد میں بی جے پی اپنے ہی فوجیوں کے خون کی ہولی کھیلنے لگی ہے، انھوں نے اپنا دعویٰ درست ثابت کرنے کے لیے بی جے پی کے تین رہنماؤں کی مبینہ گفتگو انٹرنیٹ پر بھی جاری کر دی۔

اب یہ حقیقت طشت ازبام ہو گئی ہے کہ پلواما حملہ اور پاکستان کے خلاف فضائی کارروائیاں مودی حکومت کا الیکشن جیتنے کے لیے ایک گھٹیا حربہ تھا۔ اس وقت نریندر مودی سرکار کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، اس کے علاوہ ان پر دفاعی معاہدوں میں کرپشن کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اب پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو بھی بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ صورت حال مودی سرکار کے لیے انتہائی پریشان کن ہے لیکن وہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نریندر مودی اپنے ترقیاتی کاموں اور منشور کی بنیاد پر الیکشن لڑتے لیکن ان کی انتہاپسند جماعت بی جے پی نے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالفت کا حربہ اپنا رکھا ہے جب کہ پاکستان میں کبھی کسی سیاسی جماعت نے انتخابی مہم میں بھارت مخالفت کو اپنا ایجنڈا نہیں بنایا بلکہ اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائی۔

پاکستان بھارت کی تمام تر جارحانہ کارروائیوں کے باوجود خطے میں امن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بھارت کو دعوت دے رہا ہے کہ وہ باہمی تنازعات مذاکرات کی میز پر حل کرے۔ جنگ کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دے گی۔ بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی جانب سے کوئی سنجیدہ کوششیں سامنے نہیں آئیں۔ ان کا یہ خاموش کردار خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ پاک بھارت تنازعات کو طے کرنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ادھر حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بھارتی سازشوں کے پول بھی کھل رہے ہیں اور دنیا پر واضح ہورہا ہے کہ بھارت جان بوجھ کر جنگ کا ماحول بنا رہا ہے۔

 

مقبول خبریں