انتہا پسندی کے انسداد کی ضرورت

ارباب اختیار کی دہشتگردی،انتہا پسندی ، تشدد اور فرقہ ورانہ سیل رواں کو روکنے کی پیش بندی شفاف ہو۔


Editorial March 07, 2019
ارباب اختیار کی دہشتگردی،انتہا پسندی ، تشدد اور فرقہ ورانہ سیل رواں کو روکنے کی پیش بندی شفاف ہو۔ فوٹو:فائل

دہشتگردی ، انتہاپسندی اور فرقہ ورانہ تشدد کے حوالے سے پاکستان پر عالمی دباؤ بے پناہ ہے۔ اس المیے کا سب سے درد انگیز سیکیورٹی پہلو یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف نائن الیون سے شروع ہونے والی جنگ میں واحد ملک پاکستان ہے جس نے فرنٹ لائن ریاست کے طور پر بے پناہ قربانیاں دیں اس کے 70ہزار شہری اور فوجی جوان شہید ہوئے، معیشت نے اربوں ڈالر کا خسارہ اٹھایا۔

اسی اثنا میں انتہا پسندی کے فال آؤٹ کے طور پر نان اسٹیٹ ایکٹرز نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ، مگر عالمی برادری کے ضمیر نے کبھی کوئی خلش محسوس نہیں کی بلکہ پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے ہوتے رہے اور انتہا پسندی کے باعث ملکی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان پر آج بھی دباؤ جاری ہے جو پاک بھارت کشیدگی کے نکتہ عروج پر پاکستان کی سول وعسکری قیادت سمیت مادر وطن کے لیے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے ۔

اسی تناظر میں منگل کو وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے بعد نیکٹا نے کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کردی جس میں شامل تنظیموں کی تعداد 70 ہوگئی، حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں کے خلاف باقاعدہ کارروائی شروع کردی اور مولانا مسعوداظہر کے بیٹے، بہنوئی سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 ارکان کو حراست میں لے لیا، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی نے کہا ہے کہ کسی کے دباؤ پر یہ کام نہیں کررہے۔

سیکریٹری داخلہ میجر(ر) اعظم سلیمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جارہا ہے ، کالعدم تنظیموں کے 44 لوگوں کواصلاحی حراست میں لیا گیا ہے ، کارروائی بلاتفریق کی جارہی ہے، حفاظتی تحویل میں لیے گئے افراد کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں، ثبوت ملے تو مزید کارروائی ہوگی اور اگر ثبوت نہ ملے تو حراست میں لیے گئے افراد کی نظر بندی ختم کرکے انھیں رہا کر دیا جائے گا۔

بلاشبہ فیصلہ صائب ہے اور پیداشدہ زمینی حقائق کے پیش نظر عملیت پسندی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ارباب اختیار کریک ڈاؤن میں ان سوالوں سے حاصل ہونے والے عواقب و نتائج اور اثرات و مضمرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ دہشتگردی،عدم رواداری اور ریاستی اداروں سے تصادم کے رجحانات کے فروغ کے بنیادی اسباب کیا ہوسکتے ہیں، کس طرح کالعدم تنظیموں، غیر ریاستی عناصر اور دیگر پر تشدد ماسٹر مائنڈز نے حکومت و ریاست کے مقابل اپنی متوازی تنظیم کھڑی کیں اور ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے ملکی سیاسی سماجی اور مذہبی ہم آہنگی۔

رواداری اور کثیرالمشرب معاشرتی شیرازہ کو بکھیرنے میں بلاروک ٹوک پیش قدمی کی، انتظامی سطح پرحکومتوں کے مصلحت آمیز رویے اور کمزورسیاسی حکمت عملی میں سقوم کا بھی کھوج لگایا جائے، کیونکہ اسی تساہل یا تجاہل عارفانہ کی وجہ سے کالعدم تنظیمیں نام بدل کر اپنے فکری تسلسل ، فلاحی ایجنڈہ اور پروگرام پر عملدرآمد کرتی رہتی ہیں، تقریباً تمام سیاسی تجزیہ کار اور فہمیدہ حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر سنجیدگی سے عملدرآمد نہیں ہوا تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کا عندیہ مل رہا ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے پاک بھارت کشیدگی میں کمی آرہی ہے،جس کا کریڈٹ وزیراعظم اور فوجی قیادت کو جاتا ہے ، کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کے حوالے سے بھی کام جاری ہے، پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف کارروائی کریں گے اور اس کے لیے مرحلہ وار کام شروع ہوچکا ۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان پر دہشتگردوں کی فنڈنگ، انتہاپسند نیٹ ورکس میں مفادات کے گٹھ جوڑ اور دہشتگردی کے محور و مرکز ہونے کے جتنے الزامات عالمی میڈیا نے لگائے اس میں مرکزی کردار فعال نان اسٹیٹ ایکٹرز کا ہی بتایا گیا جو قومی ریاست اور منتخب جمہوری حکومتوں کے لیے سامان رسوائی مہیا کرتے رہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار کی دہشتگردی،انتہا پسندی ، تشدد اور فرقہ ورانہ سیل رواں کو روکنے کی پیش بندی شفاف ہو، انتظامی سطح پر قلیل مدتی اقدامات کے ذریعہ ان عناصر کی مانیٹرنگ ہو، اگر ریاست دشمن سرگرمیوں میں کوئی ملوث ہو تو اسے سزا ملے جب کہ طویل المیعاد اقدامات کے تحت تعلیمی نظام میں اصلاح ، مدرسوں کے نصاب کو نئے عہد کے فکری تقاضوں اور اسلام کے روادارانہ ، تخلیقی ، تحقیقی، سائنسی اور معاشی رجحانات و فکری روایات سے جوڑا جائے۔

یہی وہ صائب حکمت عملی ہے جس سے ان قوتوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے جو مادر وطن کی اسٹرٹیجک ساکھ اور اس کے عالمی وقار اور امیج کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہوں ۔ بہر حال دہشتگردی میں کسی بھی طور ملوث غیر سرکاری عناصر کا کردار مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں