امریکا کا بھارت سے ترجیحی تجارت ختم کرنے کا فیصلہ

امریکی صدر نے امریکی تجارتی خسار ے کو کم کرنے کا بھی عہد کیا ہے اور بھارت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنا ٹیرف کم کرے۔


Editorial March 07, 2019
امریکی صدر نے امریکی تجارتی خسار ے کو کم کرنے کا بھی عہد کیا ہے اور بھارت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنا ٹیرف کم کرے۔ فوٹو : فائل

امریکا کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کو دیا گیا ترجیحی تجارتی ملک کا درجہ واپس لے رہا ہے اس درجے یا سہولت کی بدولت انڈیا کی کچھ مخصوص برآمدات کو بغیر محصولات کی ادائیگی کے امریکی منڈیوں میں آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت امریکا کو اپنی منڈیوں تک مناسب رسائی فراہم کرنے کا یقین دلانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ اقدام ان حالات میں ہوا ہے جب وہ چین کے ساتھ ایک نقصان دہ تجارتی جنگ کا معاملہ حل کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے اور ایسے اقدامات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جنھیں وہ غیرمنصفانہ تجارتی اقدامات سمجھتا ہے۔ واضح رہے امریکا بھارت اور ترکی کو اپنے جنرنلائزڈ سسٹم آف پریفرنسنز (جی ایس پی) سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکا کے مطابق یہ دونوں ممالک اب اس اسکیم کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ معلوم ہوا ہے کہ بھارت کو اس اسکیم سے نکالنے کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کیا ہے۔ امریکی کانگریس کو لکھے گئے ایک مراسلے میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ انڈیا نے امریکا کو یہ یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ امریکا کو بھارتی منڈیوں تک منصفانہ اور مناسب رسائی دے گا اس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (یو ایس ٹی آر) کے دفتر کو کہا ہے کہ وہ انڈیا کو اس پروگرام سے نکال دے جس کے تحت اسے تجارت کے لیے ترجیحی درجہ ملتا ہے۔

امریکا کے جی ایس پی پروگرام کے تحت اگر فائدہ اٹھانے والا ترقی پذیر ملک کانگریس کے مقرر کردہ قوانین پر پورا اترتا ہے تو اس ملک کی کچھ اشیا اور مصنوعات امریکا میں بغیر ڈیوٹی ادا کیے آ سکتی ہیں اس معیار پر پورا اترنے کے لیے ایک ملک کو جملہ حقوق کا تحفظ فراہم کرنا اور امریکا کو اپنی منڈیوں تک مناسب اور منصفانہ رسائی دینا شامل ہے۔

یہ تبدیلیاں امریکی کانگریس اور بھارت اور ترکی کی حکومتوں کو مطلع کرنے کے دو ماہ بعد لائی جائیں گی۔ امریکی صدر نے امریکی تجارتی خسار ے کو کم کرنے کا بھی عہد کیا ہے اور بھارت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنا ٹیرف کم کرے۔ گزشتہ سال امریکا کی طرف سے اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف بڑھایا گیا تھا جس کے جواب میں بھارت نے کئی اقسام کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی بڑھا دی تھی۔

امریکا کے اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ بھارت امید کرتا ہے کہ امریکا کا یہ فیصلہ بھارت کے لیے مشکلات کا باعث نہیں بنے گا۔ بھارت کے حکومتی ذرایع کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس درجے کا فائدہ صرف 25 کروڑ ڈالر سالانہ کا تھا۔ بھارتی وزارت تجارت کے ذرایع کا کہنا ہے کہ جی ایس پی تزویراتی تعلقات کی علامت زیادہ ہے لیکن منافع اس حوالے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

مقبول خبریں