جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

بھارتی عزائم، مودی کے جنگی جنون کے باعث خطرات سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔


Editorial March 08, 2019
بھارتی عزائم، مودی کے جنگی جنون کے باعث خطرات سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت اور درست فیصلوں سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشید گی پہلے سے کم ہوئی لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں پاک بھارت کشیدگی پر پارٹی ارکان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ عالمی دباؤ کے پیش نظر نہیں کیا جا رہا، کالعدم تنظیموں پر پابندی ملک کا اندرونی معاملہ ہے ، دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ فیصلہ کریں گے جو ملکی مفاد میں ہو گا۔

جنوبی ایشیا میں بالعموم جب کہ برصغیر میں بالخصوص پاک بھارت جنگ کے سنگین خطرہ کا ٹل جانا بلاشبہ قوم اور خطے کے کروڑوں انسانوں کے لیے باعث اطمینان ہوگا، جنگ کے حوالہ سے ایک تازہ ترین سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت بھارت سے جنگ نہیں چاہتی، بھارت کے عوام بھی نہیں چاہتے۔ تاہم وزیراعظم نے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا اپنے اس اندیشہ کا اظہار بھی کیا کہ جنگ کا خطرہ ٹل تو گیا مگر بھارتی عزائم، مودی کے جنگی جنون کے باعث خطرات سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی، یہ عندیہ اس لیے بھی لازمی ہے کہ جنگ کے بند ہونے کو ئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا ، ابھی زمینی اور تزویراتی صورتحال بدستور دھماکا خیز اور مقبوضہ کشمیر میںتشویش ناک واقعات کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت کشیدگی کم ہونے پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور دیگر دوست ممالک نے اپنا کردار ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے موجودہ صورتحال میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے کردار کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ نجی ڈپلومیسی نے کام دکھایا ، امریکا کے علاوہ چین، روس، ترکی، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، اردن اور دیگر کئی ممالک کے رہنماؤں نے بھی کشیدگی کم کرنے کردار ادا کیا۔

انھوں نے کہاڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن ہر منگل کو بھارت سے رابطہ کریں گے۔ دریں اثنا امریکا نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے پرائیویٹ ڈپلومیسی کا اعتراف کیا ہے اورکہاہے کہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے رابطوں کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں کمی ہوئی ہے، پاکستان اور بھارت میں امریکی سفارتخانے دونوں ممالک سے رابطے میں ہیں۔

وزیردفاع پرویز خٹک نے چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت اجلاس میں پاک بھارت کشیدگی کے متعلق بحث سمیٹتے ہوئے بتایا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ حالات سدھر گئے ہیں ، یہ بدستورکشیدہ ہیں، دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کاجائزہ لے رہی ہیں تاہم پاکستانی قوم اکٹھی ہے، امیدہے بھارت ہماری طرف دوبارہ دیکھنے کی جرات کرے گا ، نہ دوبارہ حملے کی غلطی کرے گا۔جہاں تک بھارتی جنگی مہم جوئی کے خطرہ کا تعلق ہے ،اسے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جنگی عزائم اور آیندہ انتخابات جیتنے کی ہوسناکی سے الگ کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔

مودی ''ہزاروں خواشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے'' کی اذیت ناک سیاسی،عسکری اور سفارتی بے بسی کا شکار ہے، اس کی ڈیسپریشن اس سے کچھ بھی کروا سکتی ہے ، بھارتی حکمراں اور پاکستان سے مخاصمت رکھنے والی مشتعل قوم پرستانہ اور جنونی مذہبی قوتیں بیوروکریسی کی سطح پر بھی اور خرد دشمنی میں ڈوبے بھارتی میڈیا کے ذریعہ کسی بھی واقعہ کو شرانگیزی کا فلیتہ دکھا سکتی ہے، مثلاً گزشتہ روز بھارت میں سرکاری دفاتر کی عمارت سی جی او کے چھٹی منزل پر واقع انڈین ایئرفورس کے دفتر میں اچانک آگ بھڑک اْٹھی جس کے نتیجے میں انڈسٹریل سیکیورٹی فورس کا سب انسپکٹر ہلاک ہوگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سی جی او کمپلیکس میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس منزل پربھارتی فضائیہ کے علاوہ وزارت پانی ونکاسی اورجنگلات کے علاوہ کئی اہم سرکاری محکموں کے دفاتر موجود ہیں۔آتشزدگی سے اہم سرکاری فائلیں جل جانے کا خدشہ ہے۔رافیل اسکینڈل مودی کے تعاقب میں ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشیل باچلے نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ ملک کے اندر 'تقسیم کرنے والی پالیسی' سے معاشی مفادات کو دھچکا لگ سکتا ہے جب کہ ہمیں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جن سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔ خاص طور پر مسلمان اور تاریخی طور پر پسے ہوئے طبقات جن میں دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ رہا ہے۔یوں پیداشدہ صورتحال کا آکٹوپس مودی ازم کو محاصرہ میں لے چکا ہے۔

پاکستان اسی سفارت کارانہ چابکدستی اور بریک تھرو سے جنگ کو مستقل طور پر ٹال سکتا ہے۔جنگ سوائے مصائب کے کچھ نہیں لاتی ، اس لیے پاکستان نے امن کے لیے جس صبروتحمل کا مظاہرہ کیا، اسے دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔ اب بھارت کی قیادت کو بھی حالات کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے اور امن کے لیے کام کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں