جارحیت کے خلاف دفاع کا آہنی عزم

خطے میں کشیدگی، مودی کی جنگی مہم جوئی اور امن کی ہر کوشش کو انڈر مائن کرنے کی روش خطرناک ہے۔


Editorial March 09, 2019
خطے میں کشیدگی، مودی کی جنگی مہم جوئی اور امن کی ہر کوشش کو انڈر مائن کرنے کی روش خطرناک ہے۔ فوٹو: فائل

آرمی چیف قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی ہمیں طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے جھکا نہیں سکتا،آرمی چیف نے فوج کو اسی طرح مستعد اور چوکس رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار رہا جائے۔

آرمی چیف نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کے لیے حکومتی فیصلے کی روشنی میں فوج کو تمام ریاستی اداروں کو مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ طاقت کے استعمال کی حکمت عملی اور حق صرف ریاست کا استحقاق ہے۔

پاک فوج کی کورکمانڈرز کانفرنس میں پاک بھارت ''اسٹینڈ آف '' سے پیدا شدہ صورتحال اور جیو اسٹرٹیجک ماحول کا جائزہ لیا گیا۔219 ویں کور کمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈرز میٹنگ میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ فورم نے کسی مہم جوئی یا جارحیت کے خلاف مادر وطن کے دفاع کے لیے مضبوط ارادہ اور عزم کا اظہار کیا۔آرمی چیف نے افواج کے عزم، کارکردگی، قوم کی حمایت اور سب سے بڑھ کر اللہ کے کرم کا شکر ادا کیا ۔

عسکری قیادت نے پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم اور لائن آف کنٹرول کی سولین آبادی کو بھارتی قابض فورسز کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے پر تشویش ظاہر کی ،انھوں نے کہا کہ ایسے مظالم کا تسلسل صرف آگ بھڑکاتا ہے، جسے خطے کے امن کے لیے روکنے کی ضرورت ہے ۔

یہ صورتحال دنیا کی توجہ کی بھی متقاضی ہے،دریں اثناء وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔سعودی وزیرخارجہ نے وزیراعظم سے ملاقات میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیغامات پہنچائے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے علاوہ سیکریٹری خارجہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات میں پاک سعودی عرب تعلقات اور پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر بھی بات چیت ہوئی۔ سعودی وزیرخارجہ نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی سلامتی کی صورتحال اور پاکستان وبھارت کے درمیان حالیہ کشیدہ صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ مہمان وزیرخارجہ نے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی اور پاکستان کے لیے سعودی عرب کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔آرمی چیف نے انتہائی مشکل حالات میں سعودی عرب کی طرف سے کی جانے والی امن کوششوں پر اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا ایک سچا دوست ثابت ہوا ہے ۔

قبل ازیں معززمہمان نے دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی جس میں پاک سعودی سپریم رابطہ کونسل کے تحت دو طرفہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے حوالے سے تعاون سے متعلق معاملات کو معینہ مدت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اتفاق کیا گیا، عادل الجبیر کی آمد بلاشبہ امن ڈپلومیسی کا ہی حصہ ہے، سعودی عرب اور امریکا پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے پر ایک پیج پر ہیں۔ اسی باعث پاکستان اور بھارت کے معاملے پر پرائیویٹ ڈپلومیسی جاری ہے ، ادھر لکسمبرگ کے وزیرخارجہ جین ایزالبورن نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں، افغانستان میں امن خطے اور پاکستان کے مفاد میں ہے، لکسمبرگ کے وزیرخارجہ جین ایزالبورن کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرکی صورت حال پر پوری دنیا کو تشویش ہے ۔

اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں دیر پا امن ممکن نہیں۔ انھوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں فرینڈشپ گروپس کے کنوینرز، سفیروں اورہائی کمشنرکو استقبالیہ سے خطاب میںکہا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے، موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیش نظرپاک بحریہ کے جوانوں کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے ساحلی ، کریک ایریا، کراچی میں بحری یونٹس اور سمندر میں تعینات جنگی جہازوں کا دورہ کیا، نیول چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک بحریہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے اور جارحیت سے نمٹنے کے لیے ہر دم چوکس اور تیار ہے۔

بلاشبہ ڈپلومیسی کی ان کثیر جہتی کوششوں کا بھارت کو سنجیدہ جواب دینا چاہیے، مگر مودی کی سوئی جنگی جنون پر اٹکی ہوئی ہے، وہ خطے میں آگ بھڑکانا چاہتا ہے، امریکی اخبار ''نیو یارک ٹائمز'' نے پاک بھارت ایٹمی جنگ کو خارج از امکان قرارنہیں دیا ہے۔ داخلی طور پر مودی سیاست نے انسانیت سوز رویے کا اظہار کیا ہے ۔

واضح رہے بھارت کی امرتسر جیل میں قید ایک مبینہ پاکستانی شہری امجد انتقال کرگیا ہے، 62 سالہ بزرگ امجد کئی روز سے امرتسر کے سرکاری اسپتال میں زیرعلاج تھا جہاں وہ جمعرات کو دم توڑ گیا۔ اس سے قبل وہ فیروز پور کی سینٹرل میں 3 سال سے زیادہ عرصہ قید رہا ۔اس سے پہلے بھارت نے جے پور میں قید پاکستانی شاکر اللہ کی تشدد زدہ لاش پاکستان کے حوالے کی اور اب ایک بار پھر امجدکی لاش حوالے کریگا جس کے اہل خانہ کی درست معلومات بھی میسر نہیں ہیں جب کہ پاکستان بھارت کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ بھارت کے حوالہ کرچکا ہے۔ بھارت کچھ تو انسانیت کا لحاظ کرے۔

تاہم بھارتی وزیراعظم سے انسان دوستی کی توقع عبث ہے کیونکہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی جو بھارت میں نظریاتی طور پر بہت ہی قابل قدر اور موثر سیاسی آواز سمجھی جاتی ہیں، نے کہا ہے کہ مودی کا وزیراعظم ہونا اس عہدے کی تذلیل ہے۔ مبصرین کے مطابق بادی النظر میں بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کے کولیٹرل ڈیمیج '' مودیتوا '' کے نئے فتنہ سے پورا بھارت انارکی کی سمت بڑھتا چلا جارہا ہے۔

بھارتی جنگجو عناصر پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی مہم پر نکلے تھے مگر آج بھارت خود عالمی برادری کی انجمن میں ''تنہا '' ہوگیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کا 90گھنٹے کا تصادم اچانک عجیب انداز میں شطرنج کی طرح اختتام پذیر ہوا جو کہ بھارت کی شکست ہے۔ دوسری جانب پلوامہ حملے کی حقیقت اور مودی سرکار کے اصل چہرہ پر کسی بھارتی لڑکی کے گانے نے بھارتی حکومت کو اور بھی ہلا کر رکھ دیا ۔گانے کے الفاظ کچھ یوں بتائے گئے ہیں ؎

پلوامہ میں ویروں نے جو جان دی اس پر واری ہے

یہ اپنوں کی غداری ہے یہ اپنوں کی غداری ہے

خطے میں کشیدگی ، مودی کی جنگی مہم جوئی اور امن کی ہر کوشش کو انڈر مائن کرنے کی روش خطرناک ہے، بھارتی وزیراعظم مودی کو اپنے ہم منصب عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش بلاتاخیر قبول کرنی چاہیے،امن کا یہی ایک واحد راستہ باقی رہ گیا ہے۔

مقبول خبریں