حکومت نے ڈاکٹروں کو میرے علاج سے روکا ہے، نواز شریف

ویب ڈیسک  ہفتہ 9 مارچ 2019
ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمیں صرف بیماری کی تشخیص کا کہا گیا ہے، علاج شروع نہیں کرسکتے، سابق وزیراعظم فوٹو:فائل

ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمیں صرف بیماری کی تشخیص کا کہا گیا ہے، علاج شروع نہیں کرسکتے، سابق وزیراعظم فوٹو:فائل

 لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹروں کو ان کے علاج سے روک دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ نواز شریف علالت کے باوجود مکمل حوصلے میں اور اللہ پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں، اہل خانہ کے اصرار کے باوجود انہوں نے اسپتال منتقل ہونے سے ایک مرتبہ پھر معذرت کی ہے، ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور انہیں کئی دن سے مسلسل انجائنا کی تکلیف ہورہی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کے سینیئر پروفیسرز نے نوازشریف کا جیل میں معائنہ کیا اور ان کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا، ڈاکٹرز نے ایک مرتبہ پھر میاں صاحب کا فوری علاج شروع کرنے کا مشورہ دیا۔

صدر ن لیگ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تین مرتبہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کے ساتھ علاج کے معاملے پر بھی انتقام اور سیاست کرنا افسوسناک ہے، نواز شریف کو جنوری سے دل کی تکلیف شروع ہوئی مگر حکومت علاج کے معاملے پر بے حسی کامظاہرہ کرتی رہی، نوازشریف پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو سمیت اپوزیشن کے تمام رہنماؤں اور عوام کی جانب سے نیک خواہشات کے اظہار پر ان کے مشکور ہیں۔

شہباز شریف نے نواز شریف سے اپنی ملاقات کا تذکرہ ہوئے بتایا کہ نواز شریف نے ان سے کہا کہ حکومت ایک مرتبہ پھر تمسخر اڑانے کا ارادہ رکھتی ہے،  جب مجھے سروسز ، پی آئی سی اور جناح اسپتال لے جایا گیا تو وہاں کے ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمیں صرف بیماری کی نوعیت پتہ لگانے کا کہا گیا ،علاج شروع نہیں کرسکتے۔

نواز شریف نے کہا کہ ڈاکٹرز نے علاج شروع کرنے کے حوالے سے بے بسی ظاہر کی اور کہا کہ یہ ہمارا اختیار نہیں ہے، ہمیں حکومت نے علاج نہیں صرف مرض کی تشخیص کا کہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔