متاثرین بارش کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے گا قائم علی شاہ

وزیر بلدیات اویس مظفر، بارش کے دوران کے ایم سی کا عملہ غائب تھا،شرجیل میمن،کمشنروں اور دیگر کی شرکت


Staff Reporter August 05, 2013
کراچی:وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں ندی،نالوں پر قائم غیر قانونی تجاوزارت کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے تاکہ پانی کا بہاؤ رواں رہے اور نکاسی آب کے سلسلے میں درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

حکومت سندھ بارشوں میں شہریوں کے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کرے گی۔انھوں نے یہ بات اتوار وزیراعلیٰ ہائوس میں رواں مون سون سیزن کے سلسلے میں ڈیزاسٹرمینیجمینٹ سے متعلق وڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں گذشتہ روز کی شدید بارش کے موقعہ پر کے ایم سی ملازمین کی غیر حاضری کا سختی سے نوٹس لیا اور چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ کے ایم سی کے ملازمین کی حاضری اور مشینری کی سڑکوں پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف مل سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام صوبائی وزرا اور منتخب نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ اضلاع میں ریلیف کے کاموں کی نگرانی کریں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وڈیو لنک کانفرنس کے ذریعے حیدرآباد،لاڑکانہ،میرپورخاص کے کمشنروں سے متعلقہ علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کیں۔

کمشنر کراچی نے اس موقع پر اجلاس کو بتایا کہ گذشتہ روز کراچی میں ہونے والی شدید بارش کے بعد سے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بارش کے پانی کی نکاسی اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلیے دن رات کوشاں ہیں اور ہم نے تمام سوک ایجنسیز کو الرٹ کیا ہوا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب سومرو نے بتایا کہ شہر میں سے 80فیصد بارش کے پانی کو نکال دیا گیاہے جبکہ گجر نالے پر غیر قانونی قائم 6 دکانیں اور 2گودام گرادیے گئے ہیں۔صوبائی وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے اجلاس کو بتایا کہ وہ صوبہ بھر کے تمام ڈویزنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرزسے رابطے میں ہیں اور ان سے امدادی کاموں کی پل پل کی خبر موصول کی جا رہی ہے۔ متعلقہ بلدیاتی اداروں کو سختی کے ساتھ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے پانی کی نکاسی اور امدادی کاموں میں کسی بھی قسم کی غیرذمے داری اور لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کریں۔



کمشنر لاڑکانہ نے بتایا کہ سب سے زیادہ بارش جیکب آباد میں 100ملی میٹر سے زائد ہوئی ہے، شکارپور میں بیگاری کینال میں 2 جگہوں پر شگاف پڑے ہیں جنھیں پرکردیا گیا اور جیکب آباد شہر سے بارش کا پانی بھی نکال دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر صورتحال کنٹرول میں ہے۔ کمشنر حیدرآباد نے بریفنگ دی کہ شہر سے گذرنے والے نالے میں مختلف مقامات پر سوراخوں کو بوریوں سے بند کردیا گیا تھا جس کے باعث بارش کے پانی کی پھلیلی نہر میں نکاسی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے نالے کو بوریوں سے بند کرنے کاسختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف کیس رجسٹر کرنے اور غفلت اور لاپرواہی برتنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کا حکم دیا۔ کمشنر میرپورخاص نے اجلاس کو بتایا کہ میرپورخاص میں صورتحال کنٹرول میں ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ انھوں نے گذشتہ روز صوبائی وزیر بلدیات سید اویس مظفر کے ہمراہ شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کیا تھا اور انھیں شہر میں کہیں بھی کے ایم سی کا عملہ اور دیگر متعلقہ افراد نظر نہیں آئے، جس کے باعث مقامی انتظامیہ کو بحالی کے کاموں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

کے ایم سی کے فنانشنل ایڈوائزر خالد شیخ نے بتایا کہ کے ایم سی کے ملازمین کی جولائی2013تک کی تنخواہیں اور پینشن ادا کردی گئی ہیں اور پیٹرول اور ڈیزل کی مد میں بھی باقاعدگی کے ساتھ ادائیگیاں ہو رہی ہیں اور کسی بھی مد میں کوئی رقم سندھ حکومت پر واجب الادا نہیں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر صوبائی وزیر روینیو ریلیف مخدوم جمیل الزمان کو ہدایت کی کہ وہ صورتحال سے بہتر طریقے سے نبردآزماہونے اور مانیٹرنگ کیلیے متعلقہ افسران اور محکموں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے عوام کو فوری طور پر ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کریں۔اجلاس میں صوبائی وزراء سید اویس مظفر، شرجیل انعام میمن، جام مھتاب ڈھر، مشیر خزانہ سید مراد علی شاہ، چیف سیکریٹری سندھ چوہدری محمد اعجاز،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ، سینئر میمبر بورڈ آف روینیو ملک اسرار، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبابندی و ترقیات عارف احمد خان،ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سید ممتاز شاہ، فنانس،صحت، لوگل گورنمینٹ آبپاشی، خوراک، جنگلات، زراعت، بحالی کے سیکریٹری، ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمشنر کراچی، کراچی کے تمام ڈپٹی کمشنر،ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اجلاس میں شرکت کی۔حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ کے ڈویزنل کمشنرز اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر زسے وڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کیا گیا۔