کراچی سمیت سندھ کے بلدیاتی اداروں کا 10 سال کا آڈٹ کرانے کا حکم

فراہمی آب اور نکاسی آب،، نالوں کی صفائی اور نالوں پر تعمیرات کے لیے این او سی کے اجرا میںکرپشن پر وزیر بلدیات کی برہمی


Staff Reporter August 05, 2013
بعض علاقوں میں مصنوعی طور پر سیوریج کا نظام خراب کیا گیا تاکہ تاثر دیا جاسکے کہ حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں،اویس مظفر۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

JACOBABAD: سندھ کے وزیربلدیات سید اویس مظفر نے سابقہ شہری حکومت اور 23 اضلاع کی ضلعی حکومتوں کے 10سال کا آڈٹ کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

یہ ہدایت انھوں نے اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں سیکریٹری بلدیات علی احمد لوند، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ثاقب سومرو، کمشنر کراچی شعیب صدیقی، کمشنر حیدر آباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ 10سال کے دوران بلدیاتی اداروں میں بڑے پیمانے پر خوربرد کی گئی ہے۔ ترقیاتی اسکیموں، فراہمی آب اور نکاسی آب، سڑکوں کی تعمیر ومرمت، نالوں کی صفائی اور نالوں پر تعمیرات کے لیے این او سی جاری کرنے میں کئی ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ اس پر وزیربلدیات نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری بلدیات علی احمد لوند کو ہدایت کی کہ کراچی سے کشمور تک تمام بلدیاتی اداروں کے بجٹ کا آڈٹ کرایا جائے اور خوربرد میں ملوث ذمے داروں کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔



اجلاس میں وزیربلدیات کو بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں مصنوعی طور پر سیوریج کا نظام خراب کیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے سندھ حکومت کراچی کے عوام کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے جس پر وزیربلدیات نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو ہدایت کی کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں میں ملوث افسران اور عملے کو بے نقاب کیا جائے اور ان کی فہرست مرتب کرکے ارسال کی جائے تاکہ ان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے۔ دریں اثنا صوبائی وزیربلدیات سید اویس مظفر نے دوسرے روز بھی شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ کورنگی روڈ پر انھوںنے سڑک بہہ جانے کا نوٹس لیتے ہوئے موقع پر موجود ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو سڑک کی تعمیر کے حوالے سے انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انھوںنے لانڈھی، قائدآباد، ملیر، کالاپل سمیت دیگر علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور نکاسی آب کی صورت حال کا جائزہ لیا۔