امریکی خلائی کیپسول کی کامیاب واپسی

ناسا کے ٹی وی فوٹیج میں کیپسول کو بڑے آرام سے سمندر میں اترتے دکھایا گیا۔


Editorial March 10, 2019
ناسا کے ٹی وی فوٹیج میں کیپسول کو بڑے آرام سے سمندر میں اترتے دکھایا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اسپیس ایکس نامی خلائی جہاز کے ڈریگن کیپسول کے بحر اوقیانوس میں کامیابی سے اتر گیا، اس کامیاب واپسی کے بعد انسان بردارکیپسول کے خلا میں جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔ ڈریگن نامی خلائی کیپسول اگلے روز صبح پونے نو بجے امریکی ریاست کیلیفورنیا سے 370 کلو میٹر کے فاصلے پر سمندر میں گرا۔

اس خلائی کیپسول میں ایک انسانی ڈمی بطور علامتی عملہ کے موجود تھی جسے بحفاظت خلاء سے زمین پر لے آیا گیا۔ بالکل اسی طرح 1960 اور 1970 کے عشروں میں اپالو نامی خلائی راکٹ خلائی مشن مکمل کرنے کے بعد واپس زمین پر لوٹا تھا۔ 1961ء اور 2011ء میں سپیس شٹل پروگرام کو بھی اس انداز سے اختتام تک پہنچایا گیا تھا جس میں امریکی خلاء باز زمین پر واپس آئے تھے۔

ناسا کے ٹی وی فوٹیج میں کیپسول کو بڑے آرام سے سمندر میں اترتے دکھایا گیا۔خلائی کیپسول کے زمینی مدار میں داخلے پر نارنجی اور سفید رنگ کی روشنی کی شعلہ نما لہریں کیپسول کی طرف بڑھتی دکھائی دیں۔ناسا کے مینجمنٹ ڈائریکٹر بینجی ریڈ Benji Reed نے کہا، میں ابھی تک فرط جذبات سے لرز رہا ہوں۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائیڈن سٹائن نے خلائی کیپسول کے بحفاظت سمندر میں اترنے کے بعد باآواز بلند نعرہ لگایا اور کہا اس سے خلائی پروگرام میں ایک اور سنگ میل طے کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے سپیس کیپسول فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا تھا جو کامیاب پرواز کے بعد زمین پر واپس پہنچ گیا۔ ناسا کے ٹی وی پر یہ سلوموشن میں بیلے ڈانس کا نظارہ لگ رہا تھا۔ حالانکہ خلائی جہاز 17500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے گرد چکر لگا رہا تھا۔

زمین کے مدار میں کیپسول کے داخلے کو اس حوالے سے بڑی اہمیت تھی کہ آیا مدار میں داخلے سے وہیکل کی ہیٹ شیلڈ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا۔ سپیس ایکس کیپسول تیار کرنے والے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ انھیں سب سے زیادہ تشویش خلائی کیپسول کے دوبارہ زمین کے مدار میں داخل ہونے پر تھی کیونکہ اس سے بہت شدید حرارت پیدا ہوتی ہے۔ خلائی جہاز کا اس کو برداشت کر لینا تشویش کو دور کر سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اس موقع پر نارنجی رنگ کی روشنیاں بھی نظر آ رہی تھیں جو بھڑکتی آگ کی علامت ہیں۔ڈریگن کیپسول کے عملے میں جو مصنوعی انسانی ڈمی رکھی گئی تھی اس کا نام ''رپیلے'' بتایا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کے طور پر اس کیپسول کے ذریعے دو انسانوںکو خلا میں بھیجا جائے گا۔

ناسا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عملے کا کہنا تھا کہ وہ پورا ہفتہ اس خلائی مشن کے کامیابی کے ساتھ انجام پر پہنچنے کے منتظر تھے۔ بہرحال انسان جس طرح کائنات کی وسعتوں میں جارہا ہے، یہ قابل تعریف ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے ملکوں کے لیے قابل تقلید بھی ہونا چاہیے۔پاکستان کے پالیسی سازوں کو کم ازکم یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ سائنسی ترقی میں کہاں کھڑے ہیں؟

 

مقبول خبریں