آفاق احمد کیخلاف اغوا کیس میں 2 رینجرز افسران طلب

جمیل بلوچ پر پلاٹ کو مہاجر قومی موومنٹ کے نام منتقلی کیلیے دباؤ ڈالا گیا


Staff Reporter August 06, 2013
رینجرز کی مداخلت اور مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا تھا،کے ڈی اے افسر کابیان فوٹو : فائل

مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں رینجرز کے کرنل عبدالمالک اور میجر اشرف کو عدالت نے طلب کرلیا۔

پیر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے مغوی جمیل احمد بلوچ کے وکلا محمد جیوانی اور مشتاق احمد کی جانب سے گواہوں کو طلب کرنے سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے سمن جاری کیے اور ڈی جی رینجرکو مذکورہ افسران کو 19 اگست تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قبل ازیں وکلا نے عدالت میں ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 540 کے تحت درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ چالان میں رینجرزکے 2 اعلیٰ افسران کو گواہ نہیں بنایا گیا جبکہ ان کی گواہی استغاثہ کیلیے اہمیت کی حامل ہے۔



گواہوں کو عدالت میں طلب کرنے کا اختیار صرف عدالت کو ہے، درخواست میں گواہوں کو بیان کیلیے عدالت میں طلب کرنے کی استدعا کی گئی تھی، استغاثہ کے مطابق ملزمان نے 2001 میں آفاق احمد کی ایما پر کے ڈی اے کے افسر جمیل احمد بلوچ کو کورنگی کے علاقے سے اغوا کیا تھا اور ان کے مرکز بیت الحمزہ میں قید کردیا تھا جبکہ بیت الحمزہ کے پلاٹ کو مہاجر قومی موومنٹ کے نام منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

مغوی جمیل احمد بلوچ نے گزشتہ پیشی پر بیان میں عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں رینجرز کی مداخلت اور مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا تھا، مغوی کے بیان پر رینجرزکے مذکورہ افسران کوعدالت میں طلب کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔