فنانشل ٹاسک فورس اور حکومتی تیاریاں

بھارت سمیت بعض قوتیں پاکستان کو معاشی میدان میں زک پہنچانے کے لیے کسی گرینڈ پلان میں مصروف ہیں۔


Editorial March 13, 2019
بھارت سمیت بعض قوتیں پاکستان کو معاشی میدان میں زک پہنچانے کے لیے کسی گرینڈ پلان میں مصروف ہیں۔ فوٹو : فائل

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کو سیاسی طور پر استعمال کیا، پاکستان بھارت کی ایف اے ٹی ایف میں شرکت کا مخالف ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق اب امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ ستمبر میں پاکستان کوکلئیر قرار دے دیا جائے، پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کے معیارات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس کا اعتراف ترقی یافتہ ممالک میں بھی کیا گیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں شفافیت لانے میں ناکام رہے۔ وہ پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹرکے حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی ہئیت ترکیبی میں بھارت کے اثرو نفوذ سے پاکستان کے اقتصادی پنڈتوں کو اب یہ ادراک ہوچکا ہے کہ بھارت سمیت بعض قوتیں پاکستان کو معاشی میدان میں زک پہنچانے کے لیے کسی گرینڈ پلان میں مصروف ہیں، اس بات پر ملکی میڈیا اور ماہرین معاشیات بلند آہنگ ہوکر ایف اے ٹی ایف کے تحفظات پر ٹھوس اقدامات اور مکمل تیاری پر زور دیتے رہے ہیں۔

ارباب اختیار کو ملک کے ممتاز ماہرین اقتصادیات ''ان پٹس'' بھی دیتے رہے اور ان کی جانب سے مفید مشورے بھی آئے جن کا مقصد ایف اے ٹی ایف وفد کو حد سے زیادہ مطمئن کرنے پر کثیر جہتی شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ قائل کرنا ہے تاکہ ملک ہر قسم کے معاشی دباؤ اور مخالف قوتوں کی سازشوں سے محفوظ رہے۔ وزارت خزانہ کے ذرایع کے مطابق پاکستان ایف اے ٹی ایف کے تحفظات کا کافی و شافی جواب دینے کی پوزیشن میں ہے ۔ پاکستان سے دہشت گردوں کی فنڈنگ، منی لانڈرنگ سمیت دیگر حساس نکات پر تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ ایک داخلی اقتصادی ٹاسک ضرور ہے جس کا جواب وار فوٹنگ پر استدلال اور پر زور انداز میں دینے کی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاکہ پاکستان بھارت کی ایف اے ٹی ایف میں شرکت کا مخالف ہے، اور یہ اختلاف اصولی اور پاکستان کو درپیش معاشی معاملات سے ہے جب کہ بھارت کی معاندانہ دخل اندازی اور بے جا اعتراضات اٹھانا کسی طور پاکستان برداشت نہیں کرسکتا۔انھوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کو پاکستان پراعتراض کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار نہ دینا تھا، یہ تقاضہ پاکستان گزشتہ ہفتے کو پورا کرچکاہے، ہم نے کالعدم تنظمیوں کو پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے، اب امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ ستمبر میں پاکستان کوکلئیر قرار دیدیا جائے۔

اسد عمرکا کہنا تھاکہ ایس ای سی پی کے قوانین میں بہتری آئی ہے، مگر ایس ای سی پی قوانین پر عمل درآمد کرانے کے لیے مزید متحرک ہو، سرکاری کمپنیوں میں کارپوریٹ شعبے میں ہوتے ہوئے بھی انتظامی امور بہتر نہیں ہوئے، بیوروکریٹ سرکاری اداروں میں شفافیت لانے میں ناکام رہے ہیں، سرکاری اداروں میں اکاؤنٹس کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا، وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان میں کارپویٹ سیکٹر کو 1500قوانین اور 40 اداروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سرکاری کمپنیوں کی کارکردگی بہتری بنانے کی ضرورت ہے۔ بیوروکریسی کی اکثریت صرف جنرل نالج رکھتی ہے۔

سرکاری کمپنیوں کو چلانے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے، حکومت اسی پر کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا میں چار سال قومی اسمبلی کی صنعت و پیداوار قائمہ کمیٹی کا چیئرمین رہا، چار سالوں میں کسی ایک سرکاری کمپنی کے بجٹ یا اخراجات کی تفصیل بروقت حاصل نہ کرسکا، یہ اعترافات چشم کشا ہیں۔ دریں اثنا پاکستان اور ایف اے ٹی ایف ایشیا پیسیفک گروپ(اے پی جی)کے مذاکرات کا شیڈول طے پاگیا۔ ذرایع کے مطابق مذاکرات 26سے28مارچ تک اسلام آباد میں ہوں گے۔

ایف اے ٹی ایف ایشیا پیسفک گروپ کا 9 رکنی وفد پاکستان سے مذاکرات کریگا، وفد کی سربراہی ایگزیکٹو سیکریٹری گارڈن ہک کریں گے۔ وفد وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے،ایس ای سی پی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملاقاتیںکریگا۔ اجلاس میں دوسری میوچل ایویلیویشن رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا، وفد مطمئن نہ ہونے پر پاکستان کوآئی سی آرجی کا نیا ایکشن پلان دیاجا سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پیسیفک گروپ سے بھارت کی رکنیت پر پاکستان نے جو سوال اٹھایا ہے اس کا جواب ملے گا۔

پاکستان نے بھارت کی گروپ میں شمولیت پر اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ یہاں اس پہلو سے حکومت کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ایف اے ٹی ایف ، پیسیفک گروپ کی پاکستان میں آمد کے موقع پر اقتصادی صورتحال ملکی سیاسی و معروضی حالات کے برعکس سیناریو کا تاثر نہ دے، سیاسی قیادت کو ملکی معیشت اور پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جس داخلی نظم وضبط اور سیاسی بلوغت اور معاشی بصیرت کے اظہار کی ضرورت ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں، ٹاسک فورس کو ہر ممکن طریقہ سے مطمئن کرنا اولین ذمے داری ہے تاکہ نہ گرے لسٹ کا خطرہ رہے اور نہ دشمنوں کی پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوئی کاوش کامیاب ہو۔

لازم ہے کہ ملکی معیشت میں یقینی شفافیت اور جوابدہی ، کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، مالیاتی نظام کی سبک رفتاری، تجارتی ریل پیل، سیاسی ہم آہنگی اور وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی معاملہ فہمی ، ٹاسک فورس کی شامل کردہ اضافی شرائط پر مکالمہ کرتے ہوئے اعلیٰ ذہانت، مہارت اور اقتصادی امتحان سے سرخرو ہوکر نکلنے کا موثر تاثر مہمان وفد پر مرتب ہو۔ کوئی مسئلہ کوئی نکتہ تشنہ طلب نہ رہے۔

اسی تناظر میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے، معیشت استحکام چاہتی ہے، تجارتی ذرایع کے مطابق نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر پہلے ہی روز پیرکوکاروبار حصص میں اتارچڑھاؤ کے بعد مندی رہی۔ تاہم چیئرمین ایس ای سی پی فرخ سبزواری نے کہاکہ ایس ای سی پی بین الاقوامی معیار کے قوانین پر عمل پیرا ہے، کارپوریٹ سیکٹر میں شفافیت لانے کے لیے عالمی بینک سے استفادہ کریں گے، کاروباری ماحول کے لیے آسانیاں لا رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں بروکرزکے لیے دستاویز 30 سے کم کرکے 4 صفحات پر لائے ہیں، سرمایہ کاروں کے لیے آگاہی مہم تیز کی جا رہی ہے۔

نئے اسٹینڈراینڈکوڈ کے تحت کمپنی میں ایک خاتون ڈائریکٹر کو لازمی قرار دیا، ایس ای سی پی لسٹڈکمپنیوں پر نگرانی کر رہا ہے، نگرانی کے تحت مشکوک سرگرمیوں پر بھی نظر رکھ رہے ہیں ، پبلک سیکٹرکمپنیوں میں 9 بڑے مسائل جس میں ایک بڑا سرکولرڈیٹ ہے، ہم کاروبار میں آسانیوں کے لیے پیپر ورک کو کم کر رہے ہیں۔

ورلڈ بینک کے کنٹری ہیڈ الانگو پاچا میتھو نے کہاکہ کارپوریٹ گورننس پر رپورٹ تیار کی، بہتری آئی، پاکستان کاروبار میں آسانیوں کے سلسلے میں 147سے137 ویں نمبر پرآگیا ہے، پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹرمعاشی ترقی کا ڈرائیور ہے۔ان اشاریوں میں بڑی جان ہے، حکومت معاشی انتظام کاری میں یکسوئی سے کام کرے تو حتمی معاشی روڈ میپ عالمی اقتصادی اور مالی اداروں کو قائل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے بریک تھرو کو بھی یقینی بناسکے گا۔

مقبول خبریں