ہنگامہ آرائی پر گرفتار4سیاسی کارکنوں کو عدالت نے بری کردیا
اے این پی کے کارکنوں کو پولیس نے دہشت گردی و ہنگامہ آرائی پر گرفتار کیا تھا
پولیس سیاسی کارکنوں پر دہشت گردی کا الزام ثابت کرنے میں ناکام عدالت نے اے این پی کے 4 کارکنوں کو بری کردیا۔
تھانہ قائد آباد نے ملزمان کو دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی جلائو گھیرائو کرتے ہوئے موقع سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جوکہ عدالت میں جھوٹا ثابت ہوگیا، منگل کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی و اختیاری عدالت کی جج صدف آصف نے دہشت گردی ، ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ اور آتش گیر مواد استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار اے این پی کے 4 کارکنوں سرفراز ، محمد بشیر خان ، شیراز خان اور محمد فیاض کو عدم ثبوت پر بری کردیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق پولیس نے ملزمان پر الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ کارکن سمیت درجنوں افراد 29 مارچ 2012 کو قائد آبادمیں اے این پی کے عہدیدار ساجد حسن زئی کی ہلاکت پر ہنگامے میں مصروف تھے ملزمان نے مقامی ٹیکسٹائل ملز کے کپڑے سے لدے ٹرک کو آتش گیر مواد سے آگ لگادی تھی ، پولیس نے ملزمان کو دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، ملزمان کیخلاف تھانہ قائد آباد میں دہشت گردی اور سرکاری کام میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج تھا ۔