مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر امریکی رپورٹ کے چشم کشا حقائق

مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے قانون کو برقرار رکھنے کے نام پر کسی بھی بے گناہ شہری کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔


Editorial March 19, 2019
abc

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف جاری کی گئی ایک امریکی رپورٹ میں عالمی سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے 2016 ء سے2018ء تک 145بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا، جولائی 2016ء سے اگست2017ء میں 17کشمیری پیلٹ گنز سے شہید ہوئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے بغیر کسی کیس کے کشمیریوں کو 2سال کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے،بھارتی فوج اور پولیس قیدیوں کے اہلخانہ سے رشوت بھی لیتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر امریکی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی2018ء کی رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2018 ء میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پیلٹ گنز کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنز سے 6ہزار 2سو 21افراد زخمی ہوئے۔

بھارت کے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا بھی رپورٹ میں ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کا کالا قانون صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی چلتا ہے۔ امریکی رپورٹ میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف حقائق کا منظرعام پر آنا خوش آیند ہے' اس سے پوری دنیا کو بھارت کے اصل چہرے سے آگاہی ہوئی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے اور انسانی حقوق کی اس طرح کھلم کھلا خلاف ورزی کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی دنیا نے بھارت کے خلاف کوئی ایکشن لیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں بھارتی مظالم کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھاتیں اور ان مظالم کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتیں۔

اقوام متحدہ بھارت کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانے کی قرارداد پیش کرتی تو یقین آ جاتا کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو واقعی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش ہے اور وہ اسے ختم کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن بھارت کے ساتھ امریکا کے اقتصادی اور فوجی معاہدے اسی طرح بڑے پیمانے پر موجود ہیں' سلامتی کونسل میں بھارت کو مستقل نشست دینے کی حامی قوتیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اگر اقوام متحدہ اور امریکا انسانی حقوق کے واقعی حقیقی علمبردار ہیں تو انھیں بھارت کے خلاف اسی طرح پابندیاں لگانی چاہئیں جس طرح ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے پر ایران اور عراق پر پابندیاں لگائی گئیں۔ امریکی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مارچ 2016 ء سے اگست 2017 ء تک ایک ہزار سے زائد افراد کالے قانون کے تحت جیلوں میں قید ہیں، جن میں آدھے سے زیادہ کشمیر کے سیاستدان ہیں۔

مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے قانون کو برقرار رکھنے کے نام پر کسی بھی بے گناہ شہری کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک کو مقامی حمایت حاصل ہے، جولائی2016 ء سے فروری2017ء کے درمیان51افراد شہید اور9 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جب کہ سال 2018 ء میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 6سو سے زائد درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں۔

مقبول خبریں