دہشت گرد مجرم اور انتہا پسند

دہشتگرد کو جو ذہنی مریض ثابت کرنا چاہتے تھے ان کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔


Editorial March 20, 2019
دہشتگرد کو جو ذہنی مریض ثابت کرنا چاہتے تھے ان کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ فوٹو:فائل

ابھی نیوزی لینڈمیں مساجد پر فائرنگ کے واقعے کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ ہالینڈکے شہریوٹریکٹ کی ایک ٹرام میں فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور نوکے زخمی ہونے کے بعد خوف اور سراسمیگی پھیل گئی ۔ تمام ٹرام سروسزکو معطل اور اسکولوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں ۔

یہ تمام کارروائی فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری کے لیے کی تھی اور آخرکار ملزم پکڑا گیا اور فائرنگ کا یہ واقعہ ذاتی دشمنی نکلا، ترک نژاد شخص نے ہم وطن سابق گرل فرینڈ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میںکئی بے گناہ افراد اپنی جان سے گئے۔ سچائی کی نظر سے دیکھا جائے تو دہشتگرد کاکوئی مذہب ، رنگ اور نسل نہیں ہوتا ،دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، یہ ایک ایسا چیلنج ہے ، جو ہر قوم ، مذہب اور ملک کو درپیش ہے۔ نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں دہشتگردی اوراس میں پچاس نمازیوں کی شہادت پر پورے پاکستان میں یوم سوگ بنایا گیا،سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا ۔

سانحہ نیوزی لینڈ کے خلاف پیرس کے ایفل ٹاورپر بھرپور احتجاج کیا گیا جس میں فرانسیسی، پاکستانی، عرب اورکشمیری کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ دوسری جانب نیوزی لینڈکی وزیر اعظم جینسڈا ارڈن نے پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن سے خطاب کا آغاز السلام و علیکم سے کیا اور حملہ آورکا نام نہ لیا صرف دہشت گرد، مجرم اور انتہا پسند سے مخاطب کیا۔انھوں نے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش میں جان دینے والے شہید پاکستانی نعیم رشید اورافغان شہری عبد العزیزکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مساجد پر حملہ کرنے والے شخص کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ سانحے کے بعد نیوزی لینڈکی وزیراعظم نے جس طرح جرائت وہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس کی وجہ سے نیوزی لینڈ میں مقیم مسلم اقلیت کے زخموں پر نہ صرف پھاہا رکھا گیا ہے بلکہ ان کو اپنے وجود کا حصہ بھی سمجھ گیا ہے ، یہ بہت بڑی ہمت کی بات ہے۔ مسلم مخالف بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر فریزر اینیگ کے سر پر انڈا مارنے والے 17 سالہ نوجوان نے اپنے لیے جمع شدہ 44 ہزار ڈالرکی خطیر رقم کو نیوزی لینڈ کی مساجد میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود انتہا پسند موادکو حاصل بے لگام جگہ ختم کی جائے،کسی بھی نوعیت کے دہشت گرد انٹرنیٹ کو بطور ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں، ٹیکنالوجی فرمزو انٹرنیٹ پر موجود انتہا پسند مواد ہٹانے پر زور دیا جائے۔ آسٹریلین وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے جی 20ممالک سے انتہا پسندی پر مبنی مواد سے نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ نے تمام اسلحہ نیوزی لینڈ کے ایک بڑے اسٹور'' گن سٹی '' سے آن لائن خریدا تھا۔ اسٹورکے مالک ڈیوڈ ٹپل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس فروخت کی پولیس نے بھی آن لائن تصدیق کی تھی۔ قاتل اور وحشی آسٹریلوی شہری برینٹن ٹارنٹ نے نیوزی لینڈکی عدالت کی طرف سے فراہم کردہ وکیل کی خدمات لینے سے انکارکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا مقدمہ خود لڑے گا۔

بینٹن ٹیرنٹ کے سابق وکیل کا کہنا ہے کہ حملہ آور ذہنی طور پر تندرست اور صورتحال سے آگاہ ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ دہشتگرد کو جو ذہنی مریض ثابت کرنا چاہتے تھے ان کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں، قاتل نے یہ حملہ باقاعدہ پلاننگ سے کیا ہے ۔ جب کہ برینٹن ٹیرینٹ کے اہل خانہ بھی اس سانحے پر صدمے سے دوچار ہیں ، انھوں نے شہدا کے ورثا اور زخمیوں سے معافی مانگی ہے۔

حملہ آورکے انکل ٹیری فٹز جیرالڈ اور دادی میری کا کہنا تھا کہ وہ افسردہ اور غمزدہ ہیں ۔ نیوزی لینڈ میں مساجد پر دہشتگرد حملے کے بعد آسٹریلیا میں بھی مساجد سمیت دیگر عبادت گاہوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔آسٹریلیوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے 39 ملین ڈالرکے فنڈ کا بھی اعلان کردیا ہے ۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن نے شہریوں کے تحفظ کے لیے آیندہ 10 روزمیں اسلحے سے متعلق نئے قوانین بنانے کا اعلان کیا ہے ۔

دریں اثناء مسجد النورکے افسوسناک سانحے کی لائیو اسٹریم ویڈیو تقسیم کرنے والے 18سالہ نوجوان کوگزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ نوجوان جس کا نام جج نے ظاہر نہیں کیا،اس پر مسجد کی تصویر شایع کرنے کا الزام ہے جس پر لکھا تھا 'ہدف' حاصل ہوگیا ۔ پراسیکیوٹرکے مطابق اسے 15 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔ درحقیقت دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے ،اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام اقوام عالم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا ۔ انسانیت کو بچانے کے لیے دہشتگردی کے عفریت کوکچلنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے بقا کا سوال ہے ۔

مقبول خبریں