عذیر بلوچ کی عدم گرفتاری سے متعلق پولیس رپورٹ مسترد شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم

ارشدپپوقتل کیس کے ملزم کی عدم گرفتاری پرایس ایچ اومعطل،ایس ایس پی سے وضاحت طلب کی ہے،آئی جی


Staff Reporter August 08, 2013
عام شہریوں کیخلاف سیکرٹ ایکٹ اورآرمی ایکٹ کے تحت مقدمات اورکورٹ مارشل کی تفصیلات2ہفتوں میں پیش جائے ورنہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پرمتعلقہ حکام کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے ، 2 رکنی بیچ کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

آئی جی سندھ نے2ہفتے کی تاخیرسے ارشدپپوقتل کے ملزم کی عدم گرفتاری اورکھلے عام افطارپارٹی سے متعلق رپورٹ پیش کردی ہے۔

چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے صوبے بھرکے اشتہاری ملزمان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں،مفروراور اشتہاری قراردیے گئے ملزمان کے شناختی کارڈزبلاک کرنے اورنادراکی مددسے فنگرپرنٹس کے ذریعے گرفتاری کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے جبکہ آئی جی سندھ کی پیش کردہ رپورٹ میں سندھ ہائیکورٹ کوبتایاگیاہے کہ ارشدپپوقتل کیس کے مرکزی ملزم عذیرجان بلوچ کی عدم گرفتاری پر ایس ایچ او چاکیواڑہ کومعطل جبکہ ایس ایس پی سائوتھ سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔



عدالت کی جانب سے ارشدپپوقتل کیس میں اشتہاری قراردیے گئے عذیرجان بلوچ کی گرفتاری میں غفلت برتنے پرمتعلقہ پولیس افسرا ن کے خلاف کارروائی کی گئی۔اس ضمن میں ایس ایچ او چاکیواڑہ کومعطل کیا گیا ہے اور ایس ایس پی سائوتھ سے وضاحت طلب کی گئی ہے جبکہ عذیر جان بلوچ کی گرفتاری کیلیے100پولیس اہلکاروں کوخصوصی دستہ تیارکیاگیاہے جواینٹیلی جنس رپورٹس کی بنیادپرکارروائی کرے گا۔چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ کاجائزہ لینے کے بعدہدایت کی کہ سندھ بھرکے اشتہاری اورمفرورملزمان کی تعداداوران کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات بتائی جائیں۔

اشتہاری قراردیے گئے ملزمان کے شناختی کارڈز بلاک کردیے جائیں،اس ضمن میں نادراکی مددسے ملزمان کے فنگر پرنٹس کے ذریعے جلد از جلد رپورٹ پیش کی جائے۔ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں13اگست کو منعقدہ امن و امان کے اجلاس میں بھی عذیربلوچ کی عدم گرفتاری سے متعلق بازپرس کی جائے گی۔ واضح رہے کہ انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ارشدپپو قتل کیس کے مرکزی ملزم عذیربلوچ اور دیگر کو پولیس رپورٹ پراشتہاری قراردے دیا تھا کہ وہ کہیں بیرون شہرمنتقل ہوگئے ہیں تاہم اسی روزکے اخبارات میں عذیر بلوچ کی جانب سے صحافیوں کے اعزازمیں دیے گئے افطار ڈنر کی تصاویرشائع ہوئیں جس پرچیف جسٹس مشیرعالم نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی تھی۔